Brailvi Books

تکبر
84 - 98
 غریبوں پر خصوصی شفقت
  محدِّث اعظم پاکستان حضرت علامہ مولانا محمدسردار احمد قادری علیہ رحمۃ اللہ القوی عُمُوماًمالداروں کی دعوت قبول نہ کرتے تھے لیکن اس کے بر عکس اگر کوئی غریب مسلمان دعوت کی پیشکش کرتا تو جہاں تک ممکن ہوتا آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ قبول فرمالیتے اور اس کے معمولی وسادہ کھانے پر بھی اُس کی تعریف فرماتے تاکہ اس کے دل میں کوئی مَلال نہ آئے۔ایک مرتبہ ایک غریب آدمی کی دعوت پر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس کے گھر تشریف لے گئے۔ وہاں جاکر معلوم ہوا کہ اس کا مکان چھپر نما اور بدبودار علاقہ میں واقع تھا مگر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اُس کی دِلجوئی کے لئے اس کے ہاں کھانا تناوُل فرمایااور اپنے کسی عمل سے اُس غریب کو محسوس نہ ہونے دیا کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بدبو محسوس کررہے ہیں، حالانکہ عام حالات میں معمولی سی بدبو بھی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے لئے ناگوار ہوتی۔(حیات محدّث اعظم،ص۱۸۴،ملخصاً)
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صَدَقے ہماری مغفرت ہو۔
اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم 

     صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
 (۱۶) لباس میں سادگی اختیار کیجئے
لباس میں سادگی اختیار کیجئے ۔دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ312 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ''بہارِ شریعت''حصّہ 16 صَفْحَہ 52پر صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی لکھتے ہیں: اتنا لباس جس سے سِتْر عورت ہوجائے اور گرمی سردی کی
Flag Counter