Brailvi Books

تکبر
83 - 98
صاحبزادے کہنے لگے:''کھائیے۔'' اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت نے فرمایا:''بہت اچھا !کھاتا ہوں ،ہاتھ دھونے کے لئے پانی لے آئیے۔''اُدھر وہ پانی لانے کو گئے اور اِدھر حاجی صاحِب نے کہاکہ حضور!یہ مکان نقّارچی(یعنی نقّارہ بجانے والے)کا ہے۔ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت یہ سن کر کَبیدہ خاطر(یعنی رنجیدہ)ہوئے اور طنزاً فرمایا:''ابھی کیوں کہا،کھانا کھانے کے بعد کہا ہوتا!''اِتنے میں وہ صاحبزادے پانی لے کر آ گئے۔ آپ عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت نے دریافت فرمایا:''آپ کے والِد صاحب کہاں ہیں اور کیا کام کرتے ہیں؟''دروازہ کے پردے کے پیچھے سے ان صاحبزادے کی والِدہ صاحِبہ نے عرض کی:''حضور! میرے شوہر کا انتِقال ہو گیا ،وہ کسی زمانے میں نَوبت (یعنی نقَّارہ)بجاتے تھے،اِس کے بعد توبہ کر لی تھی، اب صرف یہ لڑکا ہے جو راج مزدُوروں کے ساتھ مزدُوری کرتا ہے۔''اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت نے یہ سُن کر دعائے خیر و بَرَکت فرمائی۔حاجی صاحب نے حضور کے ہاتھ دھلوائے اور خود بھی ہاتھ دھو کر شریک طعام ہوگئے مگر دل ہی دل میں یہ سوچتے رہے کہ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کو کھانے میں بہت احتیاط ہے، غذا میں سوجی کے بِسکُٹ کا اِستعمال ہے،یہ روٹی اور وہ بھی باجرے کی اور اِس پر ماش کی دال،کس طرح تناوُل فرمائیں گے؟ ''مگر قربان اِس اَخلاق اور دلداری کے کہ میزبان کی خوشی کے لئے خوب سیر ہو کر کھایا۔حاجی صاحب کا بیان ہے کہ میں جب تک کھاتا رہا، اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت بھی برابر تناول فرماتے رہے وہاں سے واپسی میں پولیس چوکی کے قریب میرے شبہے کو دُور کرنے کے لئے اِرشاد فرمایا:اگر ایسی خُلوص کی دعوت روز ہو تو میں روز قبول کروں۔''(حیات اعلیٰ حضرت،ج۱،ص۱۲۲،۱۲۳)