Brailvi Books

تکبر
82 - 98
حاضر ہوئے اور عرض کی:''میری بُوا(یعنی بوڑھی والدہ)نے تمہاری دعوت کی ہے، کل صبح کوبلایا ہے۔'' اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت نے بڑی اپنائیت وشفقت سے اُن سے دریافْتْ فرمایا:''مجھے دعوت میں کیا کِھلائیے گا؟''اِس پر اُن صاحِبزادے نے اپنے کُرتے کا دامن جو دونوں ہاتھوں سے پکڑے ہوئے تھے پھیلا دیا،جس میں ماش کی دال اور دو چار مرچیں پڑی ہوئی تھیں۔ کہنے لگے:دیکھئے نا! یہ دال لایا ہوں۔ حُضور نے ان کے سر پر دستِ شفقت پھیرتے ہوئے فرمایا:''اچھّا میں اور (خادِمِ خاص حاجی کفایت اللہ صا حِب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا)یہ کل دس بجے آئیں گے۔''اور حاجی صاحِب سے فرمایا مکان کا پتہ دریافت کر لیجئے۔غرض صاحبزادے مکان کا پتہ بتا کر خوش خوش چلے گئے ۔

    دوسرے دن جب وقتِ مقررَّہ پر اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت عصائے مبارک ہاتھ میں لئے ہوئے باہَر تشریف لائے اور حاجی صاحِب سے فرمایا: ''چلئے۔'' ( تو)انہوں نے عرض کی:''کہاں؟ فرمایا:''ان صاحبزادے کے یہاں دعوت کا جو وعدہ کیا ہے، آپ کو مکان کا پتہ معلوم ہو گیا ہے یا نہیں؟''عرض کی:''ہاں حُضور!ملوک پور میں ہے۔''اور ساتھ ہو لئے ۔جس وقت مکان پر پہنچے تو وہ صاحبزادے دروازہ پر کھڑے انتظار میں تھے۔ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کو دیکھتے ہی یہ کہتے ہوئے مکان کے اندر کی طرف بھاگے :''مولوی صاحِب آ گئے۔'' دروازہ کے باہَر ایک چَھپَّر بنا ہوا تھا ۔ آپ عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت وہاں کھڑے ہو کر انتظار فرمانے لگے۔کچھ دیر بعد ایک بوسیدہ چٹائی آئی اور ڈَھَلیا میں موٹی موٹی باجرہ کی روٹیاں اور مٹّی کی رکابی میں وُہی ماش کی دال جس میں مرچوں کے ٹکڑے پڑے ہوئے تھے،لا کر رکھ دی گئی اوروہ