امیرُالْمُؤمِنِین حضرتِ مولائے کائنات، علیُّ المُرتَضٰی شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں:اگر کوئی کامل شخص اپنے گھر والوں کے لئے کوئی چیز اٹھا کر لے جائے تو اِس سے اُس کے کمال میں کوئی کمی نہیں آتی ۔
عِیال دار کو اپنا سامان خود اُٹھانا مناسب ہے
ایک بزرگ فرماتے ہیں میں نے امیرُ الْمُؤمِنِین حضرتِ مولائے کائنات، علیُّ المُرتَضٰی شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو دیکھا کہ آپ کَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے ایک دِرہم کا گوشت خریدا اور اسے اپنی چادر میں اٹھا لیا،میں نے عرض کی:امیر المؤمنین !میں اٹھا کر لے جاتا ہوں ۔ فرمایا :''نہیں ، عِیال دار آدمی کو اپنا سامان خود اُٹھانا مناسِب ہے۔''
صدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی بہت بڑے عالِم دین اور فقیہ ہونے کے باوجود عاجزی وانکساری کے پیکر تھے ۔ حدیث شریف میں ہے:
''کَانَ یَکُونُ فِی مِہْنَۃِأَھلِہِ