Brailvi Books

تکبر
80 - 98
کے ہاں توبیٹے اور غلام موجود ہیں جو اِس کام کے لئے کافی ہیں ۔''تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اِرشاد فرمایا:''میں اپنے نفس کی آزمائش کررہا ہوں کہ یہ اس کام سے اِنکار تو نہیں کرتا۔''
 (شرح صحیح البخاری لابن بطال ،ج۱۰، ص۲۱۴)
تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صرف اس ارادے پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ اس کا عملی تجربہ بھی کیا کہ ''آیا !نفس سچا ہے یا جھوٹا!''
             کمال میں کوئی کمی نہیں آتی
    امیرُالْمُؤمِنِین حضرتِ مولائے کائنات، علیُّ المُرتَضٰی شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں:اگر کوئی کامل شخص اپنے گھر والوں کے لئے کوئی چیز اٹھا کر لے جائے تو اِس سے اُس کے کمال میں کوئی کمی نہیں آتی ۔
 (احیاء العلوم ،ج۳، ص۴۳۵)
    عِیال دار کو اپنا سامان خود اُٹھانا مناسب ہے
 ایک بزرگ فرماتے ہیں میں نے امیرُ الْمُؤمِنِین حضرتِ مولائے کائنات، علیُّ المُرتَضٰی شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو دیکھا کہ آپ کَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے ایک دِرہم کا گوشت خریدا اور اسے اپنی چادر میں اٹھا لیا،میں نے عرض کی:امیر المؤمنین !میں اٹھا کر لے جاتا ہوں ۔ فرمایا :''نہیں ، عِیال دار آدمی کو اپنا سامان خود اُٹھانا مناسِب ہے۔''
 (احیاء العلوم ،ج۳، ص۴۳۵)
    گھر کے کام کردیا کرتے
 صدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی بہت بڑے عالِم دین اور فقیہ ہونے کے باوجود عاجزی وانکساری کے پیکر تھے ۔ حدیث شریف میں ہے:
''کَانَ یَکُونُ فِی مِہْنَۃِأَھلِہِ
یعنی حضور صلَّی
Flag Counter