| تکبر |
بھرے اَلفاظ ارشادفرماتے ہیں :''آپ سوالات کیجئے ،مگر ہرسوال کا جواب وہ بھی باِلصَّواب (یعنی دُرُست)دے پاؤں، ضروری نہیں،معلوم ہوا تو عرض کرنے کی کوشش کروں گا ۔اگر مجھے بھول کرتا پائیں تو فوراً میری اِصلاح فرمائیں ،مجھے اپنے موقف پر بے جا اڑتا ہوا نہیں ، اِن شاء اللہ عَزَّوَجَلَّ شکریہ کے ساتھ رُجوع کرتا پائیں گے۔''
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اِن پر رحمت ہو اور اِن کے صَدَقے ہماری مغفرت ہو
اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد(۱۲) نُمایاں حیثیت کے طالب نہ بنئے
اپنے رُفَقاء کے ساتھ ہوں یا کسی محفل میں کبھی بھی دل میں اس خواہش کو جگہ نہ دیجئے کہ مجھے نُمایاں حیثیت دی جائے ،اونچی جگہ بٹھایا جائے،میری آؤبھگت کی جائے ۔ ہاں!کسی نے ازخود آپ کو نمایاں جگہ پر بیٹھنے کی درخواست کی توقَبول کرنے میں حرج نہیں۔امیرالمومنین حضرتِ سیِّدُنا مولیٰ علی المرتضٰی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کہیں تشریف فرماہوئے صاحِب خانہ نے حضرت کے لئے مسندحاضر کی،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس پررونق افروز ہوئے اور فرمایا: کوئی گدھا ہی عزّت کی بات قَبول نہ کریگا۔
(فتاوٰی رضویہ ،ج۲۳،ص۷۱۹ )
(۱۳) گھر کے کام کیجئے
اگر کوئی عُذْر نہ ہو توگھر کے چھوٹے موٹے کام خود کیجئے ۔گھر والوں کی ضرورت کا سامان اپنے ہاتھ سے اٹھا کر بازار سے گھر تک لائیے۔