Brailvi Books

تکبر
75 - 98
(۷) اپنا سامان خود اٹھائیے
 شَہَنْشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلَّم کا فرمانِ باقرینہ ہے :''جس نے اپنا سامان خود اٹھا لیا وہ تَکَبُّر سے آزاد ہو گیا۔''
 (شعب الایمان، باب فی حسن الخلق، فصل فی التواضع، الحدیث: ۸۲۰۱،ج۶،ص۲۹۲)
   (۸) ان اعمال کو اختیار کیجئے
 مَحبوبِ رَبُّ الْعزّت، محسنِ انسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلَّم کا فرمانِ براءَ ت نشان ہے :''اُون کا لباس پہننا، مؤمِن فُقَراء کی صحبت میں بیٹھنا، درازگوش (گدھے)پر سُواری کرنا اور بکری کو رسّی سے باندھ دینا تَکَبُّر سے براء َت(یعنی چھٹکارے)کے اسباب ہیں ۔ ''
 (شعب الایمان، باب فی الملابس والاوانی، الحدیث۶۱۶۱،ج۵،ص۱۵۳)
  بکری کی کھال پر بیٹھنے کی برکت
 دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ1250 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ''بہارِ شریعت''جلد اوّل حصّہ2 صَفْحَہ403 پرہے:''بکری اور مینڈھے کی (پکائی ہوئی یعنی مخصوص طریقے سے خشک کی ہوئی )کھال پر بیٹھنے اور پہننے سے مزاج میں نرمی اور اِنکسار پیدا ہوتا ہے۔''(بہارشریعت،جلد اوّل ، ص۴۰۳)اَلحَمدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّشیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ اپنے بیٹھنے کی جگہ پر عُمُومابکری کی (خشک کی ہوئی )کھال بچھانے کا اہتمام فرماتے ہیں بلکہ بیان کے دوران بھی اکثر اوقات آپ دامت برکاتہم العالیہ کی فرشی چٹائی پر بکری کی کھال بچھی ہوئی ہوتی ہے ۔ میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آپ بھی کوشش کرکے اپنے بیٹھنے کی جگہ پر بکری یا مینڈھے کی
Flag Counter