| تکبر |
حضرتِ مولانا سید ایّوب علی علیہ رحمۃ القوی کا بیان ہے کہ '' کوہ ِبھوالی سے میری طلبی فرمائی جاتی ہے ، میں بہ ہمراہی شہزادہ اصغر(حضور مفتیئ اعظم ہند)حضرت مولانامولوی شاہ محمد مصطفی رضاخاں صاحِب مدظلہ الاقدس، بعد ِ مغرب وہاں پہنچتا ہوں ،شہزادہ ممدوح(مَمْ۔دُوح یعنی جس کی تعریف کی جائے)اندر مکان میں جاتے ہوئے یہ فرماتے ہیں:'' ابھی حُضورکو آپ کے آنے کی اطِّلاع کرتاہوں۔''مگر باوُجُود اس آگاہی کے کہ حُضور(یعنی امامِ اہلسنّت شاہ مولانااحمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمن)تشریف لانے والے ہیں ،تقدیمِ سلام سرکار(یعنی سلام میں پہل اعلیٰ حضرت)ہی فرماتے ہیں، اس وقت دیکھتا ہوں کہ حُضوربالکل میرے پاس جلوہ فرما ہیں ۔''
(حیاتِ اعلیٰ حضرت،ج۱،ص۹۶)
عاشقِ اعلیٰ حضرت امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کی عادت کریمہ
اَلحَمدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ عاشقِ اعلیٰ حضرت شیخ طریقت امیرِ اہلسنّت حضرتِ علامہ مولانامحمدالیاس عطّار قادری رضوی مدظلہ العالی بھی حتّی المقدور ملنے والوں سے سلام میں پہل فرماتے ہیں ۔ایک مَدَنی اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ میں نے بارہا کوشش کی کہ میں امیراہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کو پہلے سلام کروں مگر آپ دامت برکاتہم العالیہ کی عادت کریمہ کی وجہ سے بہت کم مواقع پر ایسا کرنے میں کامیاب ہوسکا ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اعلٰی حضرت اور امیرِ اہلسنّت پر رحمت ہو اور اُن کے صَدَقے ہماری مغفرت ہو۔
اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد