Brailvi Books

تکبر
71 - 98
پس وہ لوگوں کی نظروں میں چھوٹا ہو گامگرخودکو بڑا سمجھتاہو گا یہاں تک کہ وہ لوگوں کے نزدیک کتّے اور خِنزِیر سے بھی بدتر ہو جاتاہے۔''
 (کنزالعمال، کتاب الاخلاق ، قسم الاقوال، الحدیث:۵۷۳۴،ج۳،ص۵۰)
  ہر ایک کے سرمیں لگام
 ایک اور جگہ فرمانِ عالیشان ہے :''ہر انسان کے سر میں ایک لگام ہوتی ہے جو ایک فرشتے کے ہاتھ میں ہوتی ہے، جب بندہ تواضُع کرتا ہے تواس لگام کے ذریعے اُسے بلندی عطاکی جاتی ہے اور فرشتہ کہتاہے :''بلند ہوجا! اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھے بلند فرمائے۔''اور اگر وہ اپنے آپ کو(تکبرسے)خودہی بلند کرتا ہے تووہ اُسے زمین کی جانب پَست (یعنی نیچا)کر کے کہتا ہے :''پَست(یعنی نیچا)ہو جا! اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھے پَست کرے۔''
 (کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال،باب التواضع، الحدیث:۵۷۴۱،ج۳،ص۵۰)
  کیا یہ بھی مجھ سے بہتر ہو سکتا ہے!
  حضرت سیِّدُنا امام حَسَن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی اِس قدر مُنکَسِرُالمزاج تھے کہ ہر فرد کو اپنے سے بہتر تَصَوُّر کرتے۔اس کا سبب یہ ہوا کہ ایک دن دریائے دِجلہ پر کسی حَبشی کوعورت کے ساتھ اِس طرح شراب نوشی میں مبتَلا دیکھا کہ شراب کی بوتل اُسکے سامنے تھی۔اُس وقت آپ کو یہ تَصَوُّر ہوا کہ کیا یہ بھی مجھ سے بہتر ہو سکتا ہے؟ کیونکہ یہ تو شرابی ہے۔اِسی دَورا ن ایک کِشتی سامنے آئی جس میں سات افراد تھے اور وہ غَرَق ہو گئی،یہ دیکھ کر حبشی پانی میں کود گیا اور چھ افراد کو ایک ایک کر کے نکالا۔پھر آپ سے عرض کیا: آپ صرف ایک ہی کی جان بچا لیں۔میں تو یہ امتحان لے رہا تھا کہ آپ کی چشمِ باطن کُھلی ہوئی ہے یا نہیں! اور یہ عورت جو میرے پاس ہے، میری
Flag Counter