| تکبر |
ہوں گا ۔ اگر میرا رب مجھ سے ناراض ہوا تو میرا کیا بنے گا!اگر تَکَبُّر کے سبب مجھے جہنَّم میں پھینک دیا گیا تو وہ ہولناک عذاب کیونکربرداشت کر پاؤں گا؟اس طرح تصور میں عذاب کو یاد کرنے کی وجہ سے اِنکساری پیدا ہوگی۔ان تمام باتوں کو سوچ کر اِن شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ تَکَبُّر دُورہو جائے گا ،اور بندہ خود کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حقیر و عاجِزخیال کریگا۔
(۲)د عا کیجئے
تَکَبُّر سے نجات پانے کے لئے مومن کے ہتھیار یعنی دُعا کو اِستعمال کیجئے اور بارگاہِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ سے کچھ اِس طرح دُعا مانگئے :''یا اللہ عَزَّوَجَلَّ!میں نیک بننا چاہتا ہوں ، تَکَبُّر سے جان چھڑانا چاہتا ہوں مگر نفس وشیطان نے مجھے دبارکھاہے ، اے میرے مالک مجھے ان کے مقابلے میں کامیابی عطا فرما ، مجھے نیک بنا دے ،عاجِزی کا پیکر بنادے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم
گناہوں کی عادت چُھڑا یا الٰہی عزوجل
مجھے نیک انساں بنا یا الٰہی عزوجل(۳) اپنے عُیُوب پر نظر رکھئے
تَکَبُّر سے بچنے کے لئے اپنے عیوب پر نظر رکھنا بہت مُفید ہے اوراپنی عادات واطوار کو تقویٰ کی چَھلنی سے گُزارناعُیُوب ونَقائص کی پہچان کے لئے بہت مُعاوِن ہے۔دافِعِ رنج و مَلال، صاحِبِ جُودو نَوال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلَّم کا فرمانِ باکمال ہے:''عنقریب میری اُمّت کو پچھلی اُمّتوں کی بیماری لاحِق ہو گی۔''صَحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی :''پچھلی اُمتوں کی بیماری کیا ہے؟'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:'