Brailvi Books

تکبر
68 - 98
(۵) میرے مقام میں کوئی کمی تو نہیں آئی
 ایک رات حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاں کوئی مہمان آیا، آپ کچھ لکھ رہے تھے ۔ قریب تھا کہ چَراغ بجھ جاتا۔مہمان نے عرض کی میں اُٹھ کر ٹھیک کر دیتا ہوں تو آپ نے فرمایا: مہمان سے خدمت لینا اچّھی بات نہیں ہے۔اُس نے کہا غُلام کو جگا دوں؟ فرمایا:وہ ابھی ابھی سویا ہے۔پھر آپ خود اٹھے اور کُپِّی لے کر چَراغ میں تیل بھر دیا۔مہمان نے کہا:یا امیر المؤمنین! آپ نے خود ذاتی طور پر یہ کام کیا؟ فرمایا:جب میں(اِس کام کے لئے)گیا تو بھی عُمر تھا اور جب واپَس آیا تو بھی عُمر ہی تھا، میرے مقام میں کوئی کمی نہیں آئی اور بہترین آدمی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے ہاں تواضُع کرنے والا ہو۔
 (احیاء علوم الدین، کتاب ذم الکبر والعجب،ج۳،ص۴۳۵)
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدَقے ہماری مغفرت ہو۔
اٰمین بجاہِ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم 

     صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
       تکبُّر کے مزید عِلاج
(۱) بارگاہِ الٰہی میں حاضِر ی کو یاد رکھئے
    اس طرح ''فکرِ مدینہ ''(یعنی اپنا محاسبہ)کیجئے کہ کل جب حَشْر بپا ہوگا اور ہرایک اپنے کئے کا حساب دے گا تو مجھے بھی اپنے ربِّ ذوالجلال کی بارگاہ میں اپنے اعمال کا حساب دینا پڑے گا ،اُس وقت میں انتہائی عجز،ذلّت اور پَستی کی جگہ پر
Flag Counter