Brailvi Books

تکبر
67 - 98
پر آدھی بک جائے اور دوسری بار پوری۔ اِس(حکومت)پر جتنا چاہے تَکَبُّر کرلیجئے!''
 (تاریخ الْخُلَفَا ،ص۲۹۳ملخصاً)
 (۳)سالارِ لشکر کونصیحت
    حضرت سیِّدُنا مُطَرِّف بن عبداللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ایک لشکر کے سپہ سالار ''مُھَلَّب ''کو ریشمی جُبّے میں ملبوس اکڑ کر چلتے ہوئے دیکھا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندے! اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اُس کے رسول کو یہ چال پسند نہیں۔اُس نے جواباً کہا :کیا تم مجھے پہچانتے نہیں کہ میں کون ہوں! فرمایا:کیوں نہیں، میں تمہیں خوب پہچانتا ہو ں، تمہارا آغاز ایک بدلنے والا نُطفہ(یعنی گندہ قطرہ)، اَنجام بدبودار مُردہ اور درمیانی وقفے(یعنی زندگی بھر پیٹ)میں گندگی اُٹھائے پھرناہے۔یہ سُن کر ''مُھَلَّب''(شرمندہ ہو کر)چلا گیا اور اُس نے یہ چال چھوڑ دی۔
     (اِحْیَاءُ الْعُلُوْم ج ۳ ص۴۱۷دارصادربیروت)
 (۴) بُلندی چاہنے والے کی رُسوائی
    ایک بزرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :''میں نے کوہ ِصفا کے قریب ایک شخص کو خچّر پر سُوار دیکھا، کچھ غُلام اُس کے سامنے سے لوگوں کوہٹا رہے تھے، پھرمیں نے اُسے بغداد میں اِس حالت میں پایا کہ وہ ننگے پاؤں اور حسرت زدہ تھا نیز اُس کے بال بھی بہت بڑھے ہوئے تھے، میں نے اُس سے پوچھا :''اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تمہارے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟''تو اُس نے جواب دیا :''میں نے ایسی جگہ بلندی چاہی جہاں لوگ عاجِزی کرتے ہیں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے ایسی جگہ رُسوا کر دیا جہاں لوگ رِفعت (یعنی بلندی)پاتے ہیں۔''
(الزواجرعن اقتراف الکبائر،ج۱،ص ۱۶۴)
Flag Counter