Brailvi Books

تکبر
66 - 98
مگر یہ کیا ! وہاں ایک پُرانے بوسیدہ لباس اور چپلوں کے سوا کچھ تھا ہی نہیں ۔درباریوں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ محمود نے ایاز سے ان کپڑوں اور چپلوں کے بارے میں دریافت کیا تو اُس نے بتایا کہ یہ میری غلامی کے دور کی یادگار ہیں جنہیں دیکھ کر میں اپنی اوقات یادرکھتا ہوں اور خود کو موجودہ عُروج پر تَکَبُّر میں مبتلا نہیں ہونے دیتا ۔ یہ سُن کر محموداپنے وفادار خادِم ایاز سے اور زیادہ متأَ ثِّر نظر آنے لگا اور درباریوں کا منہ کالا ہوا ۔
 ( مثنوی مولانا روم(مترجم)،دفتر پنجم،ص۴۵،ملخصًا)
(۲) ساری سَلْطَنَت کی قیمت ایک گلاس پانی
 دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 540 صَفحات پر مشتمل کتاب ، '' ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت'' صَفْحَہ376پر ہے:حضرت خلیفہ ہارون رشید رحمۃ اﷲ علیہ عُلَماء دوست تھے۔ دربار میں علماء کامجمع ہر وقت لگارہتا تھا۔ ایک مرتبہ پانی پینے کے واسطے منگایا، منہ تک لے گئے تھے،پینا چاہتے تھے کہ ایک عالِم صاحب نے فرمایا:'' اَمِیْرُ الْمُؤمِنِین!ذرا ٹھہریئے! میں ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں۔''فوراً خلیفہ نے ہاتھ روک لیا۔ اُنہوں نے فرمایا:'' اگر آپ جنگل میں ہوں اور پانی مُیَسَّر نہ ہو اور پیاس کی شِدَّت ہو تواِتنا پانی کس قَدَر قیمت دے کر خریدیں گے ؟'' فرمایا: ''وَاﷲ! آدِھی سلطنت دے کر۔''فرمایا:''بس پی لیجئے !''جب خلیفہ نے پی لیا ، انہوں نے فرمایا: ''اب اگر یہ پانی نکلنا چاہے اور نہ نکل سکے(یعنی پیشاب ہی بند ہو جائے)تو کس قَدَر قیمت دے کر اس کا نکلنامَول (یعنی خرید )لیں گے''کہا:وَاﷲ!پوری سلطنت دے کر۔ ارشاد فرمایا: ''بس آپ کی سلطنت کی یہ حقیقت ہے کہ ایک مرتبہ ایک چُلُّو پانی
Flag Counter