| تکبر |
سُلوک کرتے ہیں ،آج جن پر حکم چلاتے ہیں ریٹائرمنٹ کے دوسرے دن انہی کی خدمت میں حاضر ہوکر پنشن کیس نپٹوانا ہے!الغرض فانی چیزوں پر غروروتکبر کیونکرکیا جائے!اِس لئے کیسا ہی بڑامَنصَب یا عہدہ مل جائے اپنی اوقات نہیں بھولنی چاہے۔ اعلیٰ حضرت امام احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں :''آدمی کو اپنی حالت کا لحاظ ضرو ر ہے نہ کہ اپنے کو بھولے یاستایشِ مردم (یعنی آدمیوں کے تعریف کرنے)پر پھولے۔
(ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت ص۶۶)
''عاجِزی''کے پانچ حروف کی نسبت سے 5حکایات
(۱) اپنی اوقات یادرکھتا ہوں
ایازسلطان محمود غزنوی کا ایک ادنیٰ غُلام تھا پھر ترقی کرتے کرتے اس کا محبوب ترین وزیر بن گیا۔ایاز کی کامیابیاں حاسِدین درباریوں کو ایک آنکھ نہ بھاتی تھیں ۔ وہ موقع کی تاک میں رہتے تھے کہ کسی طرح ایاز کو محمود کی نظروں سے گرا دیں ۔ آخِرِکار انہیں ایک موقع مل ہی گیا ۔ ہوایوں کہ ایاز کا معمول تھا کہ روزانہ مخصوص وقت میں ایک کمرے میں چلا جاتا اور کچھ دیر گزار کر واپس آجاتا۔درباریوں نے محمود کے کان بھرنا شروع کئے کہ ضرور ایاز نے شاہی خزانے میں خردبُرد کر کے مال جمع کررکھا ہے جسے دیکھنے کے لئے کمرہ خاص میں جاتا ہے ،وہ اس کمرے کو تالا لگا کر رکھتا ہے اورکسی اور کو اندرداخل ہونے کی اجازت نہیں دیتا ۔ محمود کو اگرچہ ایاز پر مکمل اعتماد تھامگر درباریوں کو مطمئن کرنے کے لئے ایک وزیر کو کہا کہ اُس کمرے کا تالاتوڑ ڈالو ،وہاں جوکچھ ملے وہ تمہارا ہے۔وزیر اور دیگر درباری خوشی خوشی ایاز کے کمرے میں جاگھسے ۔