طاقت وقُوَّت سے پیداہونے والے تَکَبُّرکاعِلاج کرنے کے لئے یوں فکرِ مدینہ کیجئے کہ قُوَّت و پھرتی تو چوپایوں اور درندوں میں بھی ہوتی ہے بلکہ ان میں انسان سے زیادہ طاقت ہوتی ہے تو پھر اپنے اندر اورجانوروں میں''مُشْتَرَک'' صفت پر تَکَبُّر کیوں کیا جائے!حالانکہ ہمارے جسم کی ناتُوانی کا تویہ حال ہے کہ اگر ایک دن بخار آجائے تو طاقت وقُوَّت کا سارانشہ اترجاتا ہے، معمولی سی گرمی میں ذرا پیدل چلنا پڑے تو پسینے سے شَرابُور ہوکر نِڈھال ہوجاتے ہیں ،سَرد ہوا چلے تو کپکپانے لگتے ہیں۔بڑی بیماریاں تو بڑی ہی ہوتی ہیں انسان کی ڈاڑھ میں اگر درد ہوجائے تو اُس وقت خوب اندازہ ہوجاتا ہے کہ اُس کی طاقت وقوت کی حیثیت کیا اور کتنی ہے!پھر جب موت آئے گی تو یہ ساری طاقت و قُوَّت دَھری کی دَھری رہ جائے گی اور بے بسی کا عالَم یہ ہوگا کہ اپنی مرضی سے ہاتھ تو کیا اُنگلی بھی نہیں ہِلاسکیں گے ۔لہٰذا میرے میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو! ایسی عارِضی قُوَّت پر نازاں ہونا ہمیں زَیب نہیں دیتا ۔