| تکبر |
عنہ کو سیاہ رنگ پر عار(یعنی شرم)دلائی، انہوں نے رسولِ اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلَّم کی خدمت میں شکایت کی توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلَّم نے حضرتِ ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس کی تصدیق کرنے کے بعد ارشاد فرمایا:''اے ابوذر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)!تمہارے دل میں ابھی تک جاہلیت کے تَکَبُّر میں سے کچھ باقی ہے۔''یہ سن کر حضرتِ سیِّدُنا ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے آپ کوزمین پر گرادیا اور قسم کھائی کہ جب تک حضرتِ سیِّدُنا بِلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے رُخسار کو اپنے قدموں سے نہیں روندیں گے وہ اپنا سر نہیں اٹھائیں گے۔چنانچہ انہوں نے سر نہ اٹھایا حتّٰی کہ حضرتِ سیِّدُنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس طرح کا عمل کیا۔
(شرح صحیح البخاری لابن بطّال،باب السلام من الاسلام،ج۱،ص۸۷)
حسن والا نجات پائے گا ۔۔۔۔۔۔مگرکب؟
( 2)حسین وجمیل ہوتے ہوئے بھی عاجِزی اختیار کیجئے اور اِس فضیلت کے حقدار بنئے،شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلَّم کا فرمانِ دلنشین ہے :''جو حسین وجمیل اور شریفُ الاصل(یعنی اونچے خاندان والا)ہونے کے باوُجود منکسِر المزاج ہو گا تووہ ان لوگوں میں سے ہو گا جنہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ قیامت کے دن نجات عطا فرمائے گا۔''
(حلیۃ الاولیاء،رقم:۳۷۷۷،ج۳،ص۲۲۲)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۶) کامیابیاں
انسان کی زندگی کامیابی وناکامی کی داستان ہے ، جب مسلسل کامیابیاں بعض اِسلامی بھائیوں کے قدم چُومتی ہیں تو وہ پے درپے ناکامیوں کے شکار ہونے والے دُکھیاروں کو حقیر سمجھنا شروع کردیتے ہیں ،خود کو بے حد تجرِبہ کار گردانتے ہوئے