| تکبر |
ہے ،کھولتا ہوا تیل تو بہت بڑی چیز ہے ، ابلتا دودھ بھی سارے حُسن کو غارت کرنے کیلئے کافی ہے۔ یہ بھی پیشِ نظر رہے کہ انسان جب تک دنیا میں رہتا ہے اپنے جسم کے اندر مختلف گندگیاں مَثَلاً پیٹ میں پاخانہ وپیشاب اور رِیح (یعنی بدبودار ہوا)،ناک میں رینٹھ(رِیں۔ٹھ)، منہ میں تھوک ، کانوں میں بدبودار میل ،ناخُنوں میں مَیل، آنکھوں میں کیچڑ اورپسینے سے بدبودار بغلیں لئے پھرتاہے ، روزانہ کئی کئی بار اِستنجا خانے میں اپنے ہاتھ سے پاخانہ و پیشاب صاف کرتا ہے ،کیا ان سب چیزوں کے ہوتے ہوئے فَقَط گوری رنگت ،ڈیل ڈول اور قدوقامت نیز چوڑے چکلے سینے وغیرہ پر تَکَبُّرکرنا زیب دیتا ہے!یقینا نہیں۔حضرت سیِّدُنا اَحنَف بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :''آدمی پر تعجُّب ہے کہ وہ تَکَبُّر کرتاہے حالانکہ وہ دو مرتبہ پیشاب گاہ سے نکلا ہے۔''
(الزواجر عن اقتراف الکبائر ،ج۱،ص ۱۴۹)
حضرت سیِّدُنا حَسَن رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :''آدمی پر تعجُّب ہے کہ وہ روزانہ ایک یادو مرتبہ اپنے ہاتھ سے ناپاکی دھوتا ہے پھر بھی زمین وآسمان کے بادشاہ (یعنی اللہ تعالیٰ)سے مقابلہ کرتاہے۔''(ایضاً)
حضرت سیِّدُنا لقمان حکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نصیحت
حضرتِ لقمان حکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے اِرشاد فرمایا :اے میرے بیٹے!اُس شخص کو تَکَبُّر کرنا کس طرح رَوَا (یعنی جائز)ہے جس کی اصل یہ ہے کہ اسے پاؤں سے رونداگیا ہے یعنی اُس کا خمیر مٹّی ہے اورکیونکر تَکَبُّر کرتاہے جبکہ اُس کی اصل ایک گندہ قطرہ ہے۔''
(الحدیقۃ الندیۃ،ج۱،ص۵۷۹)
حضرتِ ابو ذَر اور حضرتِ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حکا یت
حضرتِ سیِّدُنا ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک بار حضرتِ سیِّدُنا بلال رضی اللہ تعالیٰ