| تکبر |
سلطانِ اِنس و جان،رحمتِ عالمیان ، سرورِذیشان صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:'' موسیٰ کے زمانے میں دو آدمیوں نے باہم فخر کیا، ان میں سے ایک(جوکہ کافر تھا)نے کہا ''میں فلاں کا بیٹا فلاں ہوں''اس طرح وہ نو پشتیں شمار کر گیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ علی نبیِّنا و علیہ الصلوۃ و السلام کی طرف وحی بھیجی کہ ''اس سے فرما دیجئے کہ وہ نو کی نو پشتیں(کفر کی وجہ سے)جہنّم میں جائیں گی اور تم ان کے ساتھ دسویں ہو گے۔''
(المعجم الکبیر،الحدیث۲۸۵،ج۲۰ ص۱۴۰،ملخصًا)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۵) حُسن وجمال
تَکَبُّر کا پانچواں سبب حُسن وجمال ہے کہ بعض اوقات انسان اپنی خوبصورتی کی وجہ سے متکبرہوجاتاہے ، کسی کا رنگ گورا ہے تو وہ کالے رنگ والے کو، کوئی قدآور ہے تو وہ چھوٹے قد والے کو ،کسی کی آنکھیں بڑی بڑی ہیں تو وہ چھوٹی آنکھوں والے کو حقیر سمجھنا شروع کر دیتا ہے ،عُمُوماً یہ بیماری مردوں کی نسبت عورتوں میں زیادہ پائی جاتی ہے ۔
حُسن وجمال کی وجہ سے پیدا ہونے والے تکبُّر کے عِلاج
(1)حُسن وجمال کے باعث پیداہونے والے تَکَبُّر کاعِلاج کرنے کے لئے اپنی اِبتداء اور انتہاء پر غور کیجئے کہ میرا آغاز ناپاک نُطفہ(یعنی گندہ قطرہ)اور اَنجام سڑا ہوا مُردہ ہے ۔عمر کے ہر دَور میں حسن یکساں نہیں رہتا بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ماند پڑجاتا ہے ،کبھی کوئی حادِثہ بھی اس حسن کے خاتمے کا سبب بن جاتا