Brailvi Books

تکبر
59 - 98
   (۴) حَسَب ونَسَب
 تَکَبُّر کا ایک سبب حسب ونَسَب بھی بنتا ہے کہ انسان اپنے آباؤاجداد کے بل بوتے پر اَکڑتا اوردوسروں کو حقیر جانتا ہے ۔
  حسب ونسب کی وجہ سے پیدا ہونے والے تکبرکا عِلاج
  دوسروں کے کارناموں پر گھمنڈکرنا جہالت ہے ،کسی شاعر نے کہاہے :
لَئِنْ   فَخَرْتَ   بِآبَاءٍ   ذَوِی   شَرَفٍ

لَقَدْ صَدَقْتَ وَلٰکِنْ بِئْسَ مَاوَلَدُوْا
ترجمہ: تمہارا اپنے عزّت وشرف والے باپ ،داداپرفخر کرنا تو دُرُست ہے لیکن انہوں نے تجھ جیسے کوجَن کر براکیا۔(یعنی تیرے آباء نے بڑے بڑے کارنامے سراَنجام دیے مگر تیرے جیسا ناخَلَف(جودوسروں کے کارناموں پرفخرکرکے نام کماتاہے)کوجنم دے کر بہت براکام کیاہے )
 آباؤ اجداد پر فخر مت کرو
 تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اپنے فوت شدہ آباؤاجداد پر فخر کرنے والی قوموں کو باز آ جانا چاہے، کیونکہ وہی جہنم کا کوئلہ ہیں، یا وہ قومیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک گندگی کے ان کیڑوں سے بھی حقیر ہو جائیں گی جو اپنی ناک سے گندگی کو کریدتے ہیں، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تم سے جاہلیت کا تَکَبُّر اور ان کا اپنے آباء پر فخر کرنا ختم فرما دیا ہے، اب آدمی متقی و مؤمن ہو گا یا بدبخت وبدکار ، سب لوگ حضرتِ آدم (علیہ الصلوٰۃ والسلام)کی اولاد ہیں اور حضرت آدم (علیہ الصلوٰۃ والسلام)کو مٹّی سے پیدا کیا گیا ہے۔''
 (جامع الترمذی،الحدیث۳۹۸۱،ج ۵ص۴۹۷)
Flag Counter