| تکبر |
مالدار اسلامی بھائیوں کو چاہے کہ حدیث پاک میں بیان کردہ اِس فضیلت کو حاصل کرنے کی کوشش کریں :
عاجِزی کرنے والے دولت مند کے لئے خوشخبری
مخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:''خوشخبری ہے اُس شخص کے لئے جو تنگدستی نہ ہوتے ہوئے تواضُع (یعنی عاجزی)اختیار کرے اوراپنا مال جائز کاموں میں خرچ کرے اور محتاج ومسکین پررحم کرے اور اہل عِلم وفِقْہْ سے میل جول رکھے۔''(المعجم الکبیر، الحدیث:۴۶۱۶،ج۵،ص۷۲)
مالدارمُتکبر کوانوکھی نصیحت
حضرت سیِّدُنا حَسَن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک امیر کو متکبرا نہ (مُ۔ تَ۔ کَبْ۔ بِرانہ)چال چلتے ہوئے دیکھا تو اُس سے فرمایا کہ اے احمق! تَکَبُّر سے اِتراتے ہوئے ناک چڑھا کر کہا ں دیکھ رہا ہے ؟ کیا اُن نعمتوں کودیکھ رہا ہے جن کا شکر ادا نہیں کیا گیا یااُن نعمتوں کو دیکھ رہا ہے کہ جن کا تذکِرہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اَحکام میں نہیں۔ جب اُس نے یہ بات سنی تو معذِرت کرنے حاضر ہوا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اِرشاد فرمایا :''مجھ سے معذِرت نہ کربلکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں توبہ کر کیا تو نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا یہ فرمان نہیں سنا:
وَ لَا تَمْشِ فِی الۡاَرْضِ مَرَحًا ۚ اِنَّکَ لَنۡ تَخْرِقَ الۡاَرْضَ وَلَنۡ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوۡلًا ﴿۳۷﴾
ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں اتراتا نہ چل بے شک ہرگز زمین نہ چیر ڈالے گا اور ہر گز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا۔(پ۱۵، بنی اسرائیل:۳۷)
(الزواجر عن اقتراف الکبائر،ج۱،ص۱۴۹)