| تکبر |
بسااوقات اس قسم کے مُتکبّرانہ جملے اس کے منہ سے نکلتے سُنائی دیتے ہیں:''تم میرے منہ لگتے ہو !تمہارے جیسے لوگ تو میری جُوتیاں صاف کرتے ہیں ، میں ایک دن میں اتنا خرچ کرتا ہوں جتنا تمہارا سال بھر کا خرچ ہے ۔''
مال ودولت سے پیدا ہونے والے تکبر کا عِلاج
مال ودولت کی کثرت کے باعث پیداہونے والے تَکَبُّر کاعِلاج یوں ہوسکتا ہے کہ انسان اِس بات کایقین رکھے کہ ایک دن ایسا آئے گا کہ اُسے یہ سب کچھ یہیں چھوڑ کر خالی ہاتھ دُنیا سے جانا ہے،کفن میں تھیلی ہوتی ہے نہ قبر میں تجوری، پھر قبر کو نیکیوں کا نُور روشن کریگا نہ کہ سونے چاندی کی چمک دمک !الغرض یہ دولت فانی ہے اور ہِرتی پھرتی چھاؤں ہے کہ آج ایک کے پاس تو کل کسی دوسرے کے پاس اور پرسوں کسی تیسرے کے پاس ! آج کا صاحبِ مال کل کنگال اور آج کا کنگال کل مالامال ہوسکتا ہے ،تو ایسی ناپائیدارشے کی وجہ سے تَکَبُّر میں مبتَلاہوکر اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کو کیوں ناراض کیاجائے!
بِلاحساب جہنَّم میں داخِلہ
حُسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''چھ قسم کے لوگ بِغیر حساب کے جہنَّم میں داخل ہوں گے۔''(۱)اُمراء ظلم کی وجہ سے(۲)عَرَب عَصَبِیَّت(عَ۔صَ۔بی۔یَت یعنی طرف داری) کی وجہ سے(۳)رئیس اور سردار تَکَبُّر کی وجہ سے (۴)تجارت کرنے والے جھوٹ کی وجہ سے (۵)اہلِ علم حَسَد کی وجہ سے(۶)مالدار بُخْل کی وجہ سے۔''
(کنزالعمال،کتاب المواعظ والرقاق۔۔۔۔۔۔الخ،قسم الاقوال ،الحدیث۴۴۰۲۳،ج۱۶، ص۳۷)