Brailvi Books

تکبر
55 - 98
علیہم السلام (جو بارگاہِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ میں یقینا وقطعاً مقبول تھے)کوکفّار نے شہید کیا، انہیں طرح طرح کی اذیتیں دیں مگر اللہ تعالیٰ نے ان کفّارکو مہلت دی اوربعضوں کو دنیا میں سزا نہیں دی پھر ان میں سے بعض تو اسلام کے دامن میں بھی آ گئے اور دنیاوآخرت کی سز ا سے بچ گئے ۔تو کیا آپ خود کو اللہ تعالیٰ کے نزدیک انبیا ء علیہم السلام سے بھی زیادہ معزّز سمجھ بیٹھے ہیں کہ ربُّ الانام عَزَّوَجَلَّ نے آپ کا''انتقام ''تو لے لیا مگر ان انبیاء کرام علیہم السلام کاکوئی انتقام نہیں لیا !عین ممکن ہے کہ آپ خود اِس خود پسندی اور تَکَبُّر کی وجہ سے غضبِ جبّارعَزَّوَجَلَّ کے شکار ہو کر عذاب کے حقدار قرار پا چکے ہوں اور آپ کو اس کی خبر بھی نہ ہو ۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد 

                   تُوْبُوْااِلَی اللہِ                                 اَسْتَغْفِرُ اللہَ 

            صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حقیقی عبادت گزاربندوں کے مَدَنی کردار کی چند جھلکیاں ملاحظہ فرمایئے اور اپنی اصلاح کا سامان کیجئے !
لوگوں کی تکلیفوں کا سبب میں ہوں!
    جب کبھی آندھی چلتی یا بجلی گرتی تو حضرتِ سیِّدُنا عطاء سُلَمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے :لوگوں کو جو تکلیف پہنچتی ہے اس کا سبب میں ہوں ،اگر عطاء فوت ہوجائے تو لوگوں کی جان اس مصیبت سے چھوٹ جائے۔
 (احیاالعلوم،ج۳ ،ص۴۲۹)
تمہیں تعجب نہیں ہونا چاہے
   حضرتِ سیدنا بِشر بن منصور علیہ رحمۃ اللہ الغفور ان لوگوں میں سے تھے جن کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ اور آخرت کا گھر یاد آتا تھا کیونکہ وہ عبادت کی پابندی کرتے تھے،
Flag Counter