Brailvi Books

تکبر
53 - 98
عبادت کی توفیق عطا فرمائی نیز عبادت وہی مُفید ہے جس میں شرائطِ اداکے ساتھ ساتھ شرائطِ قبولیت مثلاً نیّت کی دُرُستی وغیرہ بھی پائی جائیں اور وہ مفسِدات (یعنی فاسِد کردینے والی چیزوں)سے بھی محفوظ رہے ۔کیاخبر کہ جن عبادتوں پر وہ اِترا رہا ہے شرائط کی کمی کی وجہ سے بارگاہِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ میں مقبول ہی نہ ہوں!یا پھر تکبّر کی وجہ سے ان کا ثواب ہی جاتا رہے، بلکہ وہ تکبّرکی وجہ سے ہوسکتا ہے بجائے جنت کےجہنّم میں پہنچ جائے۔
 اسرائیلی عبادت گزار اور گنہگار
 بنی اِسرائیل کا ایک شخص جو بہت گنہگار تھا ایک مرتبہ بہت بڑے عابد (یعنی عبادت گزار)کے پاس سے گزراجس کے سر پر بادَل سایہ فگن ہوا کرتے تھے ۔ اُس گنہگار شخص نے اپنے دل میں سوچا :''میں بنی اِسرائیل کا انتہائی گنہگار اور یہ بہت بڑے عبادت گزار ہیں،اگر میں ان کے پاس بیٹھوں تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر بھی رحم فرمادے۔''یہ سوچ کر وہ اُس عابدکے پاس بیٹھ گیا۔عابد کو اُس کا بیٹھنا بَہُت ناگوار گزرا ، اُس نے دل میں کہا :'' کہاں مجھ جیسا عبادت گزار اور کہاں یہ پرلے درجے کا گنہگار !یہ میرے پاس کیسے بیٹھ سکتا ہے! ''چنانچِہ اُس نے بڑی حَقارت سے اُس شخص کو مخاطَب کیا اور کہا :''یہاں سے اُٹھ جاؤ!''اِس پراللہ تعالیٰ نے اُس زمانے کے نبی علیہ السلام پر وحی بھیجی کہ ''ان دونوں سے فرمایئے کہ وہ اپنے عمل نئے سرے سے شروع کریں، میں نے اس گنہگار کو (اس کے حسنِ ظن کے سبب)بخش دیا اور عبادت گزار کے عمل (اس کے تکبر کے باعث)ضائع کر دئیے۔''
 (احیاء علوم الدین،ج۳،ص۴۲۹)
 میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے کہ جب ایک گنہگار شخص نے خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ کو اپنے دل میں بَسایا اور عاجِزی کو اپنایاتو اُس کی بخشش کر دی گئی جبکہ تَکَبُّر
Flag Counter