Brailvi Books

تکبر
52 - 98
میں نے خود ہی اپنے نفس کو اتنا ذلیل وکمترکردیاہے جس میں مزید کمی نہیں ہوسکتی۔''
(الحدیقۃ الندیۃ،ج۱،ص۵۹۱)
اللہ عَزَّوَجَلَّکی اِن سب پر رحمت ہو اور اِن کے صَدَقے ہماری مغفرت ہو
اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم 

       صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۲) عبادت وریاضت
علم سے بھی بڑھ کر جو چیز تَکَبُّر کا باعث بن سکتی ہے وہ کثرتِ عبادت ہے مثلاً کسی اِسلامی بھائی کوفرض عبادات کے ساتھ ساتھ نوافِل مثلاً تہجد ،اِشراق وچاشت ، اوّابین کے نوافل ،روزانہ تلاوتِ قراٰن ،نفلی روزے رکھنے ،ذکرواَذکار اور دیگر وظائف کرنے کی سعادت میسر ہو تو وہ بعض اوقات دیگر اِسلامی بھائیو ں کو جو نفلی عبادت نہیں کرپاتے ،حقیر سمجھنا شروع کردیتا ہے جس کا بعض اوقات زَبان سے اور کبھی اِشاروں کنایوں سے اِظہار بھی کر بیٹھتا ہے ۔ عبادت بذاتِ خود ایک نہایت ہی اعلیٰ چیز ہے لیکن بعض اسلامی بھائی عبادت گزارہونے کے زُعم میں خود کو''بڑا پہنچا ہوا ''سمجھنے لگتے ہیں اور دوسروں کو گناہ گار قرار دے کر ہر وقت ان کی عیب جوئی میں مبتلا رہتے ہیں۔ خود کو نیک وپارسا اور نجات پانے والا اور دوسروں کو گناہ گار وبدکار اور تباہ وبرباد ہونے والا سمجھنا تَکَبُّر کی بدترین شکل ہے۔
عبادت سے پیدا ہونے والے تکبر کا عِلاج
  ایسے اِسلامی بھائی کو یہ بات اپنے دل ودماغ میں بٹھا لینی چاہے کہ اگر وہ نفلی عبادتیں کرتا بھی ہے تو اِس میں اُس کا کیا کمال! یہ تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کا کرم ہے کہ اسے
Flag Counter