Brailvi Books

تکبر
51 - 98
(۸) اپنے دل کی نگرانی کرتے رہو
  حضرت سیدنا بایزیدبسطامی قُدس سرہ السامی کو ایک مرتبہ یہ تَصَوُّر ہو گیا کہ میں بہت بڑا بزرگ اور شیخِ وقت ہو گیا ہوں، لیکن اِس کے ساتھ یہ خیال بھی آیا کہ میرا یہ سوچنا فخر و تکبر کا آئینہ دار ہے۔''چنانچہ فوراً خراسان کا رخ کیا اور ایک منزل پر پہنچ کر دعا کی : ''اے اللہ جب تک ایسے کامِل بندے کو نہیں بھیجے گا جو مجھ کو میری حقیقت سے روشناس
کرا سکے اُس وقت تک یہیں پڑا رہوں گا۔''تین دن اِسی طرح گزر گئے تو چوتھے دن ایک بزرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اونٹ پر آئے اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو قریب آنے کا اشارہ کیا لیکن اس اشارے کے ساتھ اونٹ کے پاؤں زمین میں دھنستے چلے گئے ۔ انہوں نے چُبھتے ہوئے لہجہ میں کہا :'' کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں اپنی کھلی ہوئی آنکھوں کو بند کر لوں اور بند آنکھ کھول دوں اور بایزید سمیت پورے بسطام کو غرق کر دوں؟'' یہ سن کر آپ گھبراگئے اور پوچھا :'' آپ کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں؟''جواب دیا کہ'' جس وقت تم نے اللہ  تعالیٰ سے عہد کیا تھا اُس وقت میں یہاں سے تین ہزار میل دُور تھا اور اِس وقت میں سیدھا وہیں سے آ رہا ہوں،میں تمہیں باخبر کرتا ہوں کہ اپنے قلب کی نگرانی کرتے رہو ۔''یہ کہہ کر وہ بُزُرگ غائب ہو گئے۔
 (تذکرۃ الاولیاء فارسی،ص۱۳۴)
(۹) جب دریائے دِجلہ اِستقبال کیلئے بڑھا۔۔۔۔۔۔
 حضرتِ سیدنا بایزید بسطامی قدس سرہ السامی فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں دریائے دِجلہ پر پہنچا تو پانی جوش مارتا ہوا میرے اِستقبال کو بڑھا لیکن میں نے کہا : ''مجھے تیرے اِستقبال سے انشاءاللہ عزَّوَجَلَّ شَمَّہ برابر (یعنی تھوڑا سا)بھی غُرور نہ ہو گا کیونکہ میں اپنی تیس سالہ ریاضت کو تَکَبُّر کر کے ہر گز ضائِع نہیں کر سکتا۔''
                  (تذکرۃ الاولیاء (فارسی)،ص۱۴۵)
(۱۰) اب مزید کی گنجائش نہیں
حضرتِ سیِّدُنا ابوسلیمان دارانی قدس سرہُ النورانی اِرشادفرماتے ہیں:''اگرساری مخلوق بھی مجھے کمتر مرتبہ دینے اورذلیل کرنے کی کوشش کرے تو نہیں کرسکے گی کیونکہ
Flag Counter