حضرت سیِّدُنا شیخ ابو محمد عبد اللہ بن عبد الرحمن علیہ رحمۃ الرحمن جیِّد عالمِ دین اور بہت بڑے فقیہ تھے۔ ایک دن شدید بارش اور کیچڑ کے موسم میں اپنے عقیدت مندوں کی ہمراہی میں کہیں تشریف لے جارہے تھے کہ سامنے سے ایک کتا آتا دکھائی دیا، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ دیوار کے ساتھ لگ گئے اور کتے کے گزرنے کے لئے راستہ چھوڑ دیا۔جب کتا قریب آیا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نچلی طرف کیچڑ میں آ گئے اور راستے کا اوپری صاف حصہ کتے کے گزرنے کے لئے چھوڑ دیا۔ جب کتا گزر گیا توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ہمراہیوں نے دیکھاکہ آپ کے چہرے پر افسوس کے آثار موجود ہیں۔انہوں نے عرض کی:''حضرت!آج ہم نے ایک حیران کن بات دیکھی ہے کہ آپ نے کتے کے لئے صاف راستہ چھوڑ دیا اور خود کیچڑ میں پاؤں رکھ دیا!'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے جواب دیا:''جب میں پہلے دیوار کے ساتھ لگاتو مجھے خیال آیا کہ میں نے اپنے آپ کو بہتر سمجھتے ہوئے اپنے لئے صاف جگہ منتخب کر لی ،میں ڈرا کہ میری اِس حرکت کے باعث کہیں اللہ تعالیٰ مجھ سے ناراض نہ ہو جائے ،لہٰذا میں وہ جگہ چھوڑ کر کیچڑ میں آگیا۔''