حضرتِ سیِّدُناشیخ شہاب الدین سہروردی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: ایک مرتبہ مجھے اپنے پیر ومُرشِد حضرتِ سیِّدُناضیاء الدین ابو نجیب سہروردی علیہ رحمۃ اللہ القوی کے ہمراہ مُلکِ شام جانے کا اِتّفاق ہوا ۔کسی مالدار شخص نے کھانے کی کچھ اشیا قیدیوں کے سروں پررکھوا کرشیخ کی خدمت میں بھجوائیں۔ان قیدیوں کے پاؤں بیڑیوں میں جکڑے ہوئے تھے ۔جب دستر خوان بچھایا گیا تو آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے خادِم کو حکم دیا:''ان قیدیوں کو بلاؤ تا کہ وہ بھی دَرویشوں کے ہمراہ ایک ہی دستر خوان پر بیٹھ کر کھانا کھائیں۔'' لہٰذا ان سب قیدیوں کو لایا گیااور ایک دسترخوان پر بٹھا دیا گیا۔ شیخ ضیاء الدین ابو النجیب علیہ رحمۃ اللہ المجیب اپنی نشست سے اٹھے اور ان قیدیوں کے درمیان جا کر اس طرح بیٹھ گئے کہ گویا آپ انہی میں سے ایک ہیں۔ان سب نے آپ کے ہمراہ بیٹھ کر کھانا کھایا ۔اُس وقت آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی طبیعت کی عاجِزی وانکساری ہمارے سامنے ظاہر ہوئی کہ اِس قدر عِلم و فضل ا ور مرتبہ و مقام کے باوجود آپ نے تَکَبُّر سے اپنے آپ کو بچائے رکھا۔