| تکبر |
لائے تو حضرتِ سیِّدُناابراہیم بن ادھم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم نے ان کو پیغام بھیجا کہ ہمارے پاس تشریف لا کر کوئی حدیث سنایئے ۔حضرتِ سیِّدُنا سفیان ثوری علیہ رحمۃ اللہ القوی تشریف لے آئے تو حضرتِ سیِّدُناابراہیم بن ادھم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم سے عرض کی گئی: ''آپ ایسے لوگوں کو یوں بلاتے ہیں!''فرمایا:''میں ان کی تواضُع (یعنی عاجِزی)دیکھنا چاہتا تھا۔''
(احیاء العلوم،ج۳،ص۴۳۵)
(۴) اِسی وجہ سے تو وہ مالِک ہیں
حضرتِ سیِّدُنا مالک بن دینار علیہ رحمۃ اللہ الغفار فرماتے ہیں:''اگر کوئی اِعلان کرنے والا مسجد کے دروازے پر کھڑا ہو کر اِعلان کرے کہ تم میں سے جو سب سے بُرا ہے وہ باہر نکلے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !مجھ سے پہلے کوئی نہیں نکلے گا، ہاں !جس میں دوڑنے کی زیادہ طاقت ہو وہ مجھ سے پہلے نکلے گا۔''راوی کہتے ہیں جب حضرتِ سیِّدُنامالک بن دینار علیہ رحمۃ اللہ الغفار کی یہ بات حضرتِ سیِّدُنا عبد اللہ بن مبارک علیہ رحمۃ اللہ الخالق کو پہنچی تو انہوں نے فرمایا:اسی وجہ سے تو وہ''مالک ''ہیں۔
(احیاء علوم الدین،کتاب ذم الکبر والعجب، فصل فضیلۃ التواضع،ج۳، ص۴۲۰)
(۵) امام فخر الاسلام کے آنسو
امام فخر الاسلام حضرتِ سیِّدُنا علی بن محمد بزدَوی علیہ رحمۃ اللہ القوی جب بغداد شریف کے مدرسہ نظامیہ میں صدر مُدَرِّس مقرر کئے گئے تو پہلے ہی دن جب وہ مَسنَدِ تدریس پر بیٹھے تو انہیں خیال آ گیا کہ یہ وہی مَسنَد ہے جس پر کبھی حضرتِ سیِّدُناابو اسحق شیرازی علیہ رحمۃ اللہ القوی اورحجۃ الاسلام حضرتِ سیِّدُناامام محمدغزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی جیسے اکابرِ اُمّت بیٹھ کر درس دے چکے ہیں۔یہ تَصَوُّر آتے ہی ان کے دل پر ایک عجیب