| تکبر |
(۹)اپنے اَکابِرین علیہم رحمۃ اللہ المبین کے نقوشِ قدم سے رہنمائی حاصل کیجئے کہ عِلم وعمل کے پہاڑ ہونے کے باجود کیسی عاجِزی کیا کرتے تھے !
''عاجِزی کا نُور''کے10 حُرُوف کی نسبت سے بُزُرگانِ دین کی عاجِزی کی دس حکایات
(۱) کاش میں پرندہ ہوتا
امیرُ الْمُؤمِنِین حضرتِ سیِّدُنا ابو بکر صِدّیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک پرندے کو درخت پر بیٹھے ہوئے دیکھا توفرمایا: اے پرندے! تُو بڑاخوش بخت ہے ، وَاللہ! کاش !میں بھی تیری طرح ہوتا، درخت پر بیٹھتا ،پھل کھاتا ،پھر اُڑجاتا، تجھ پر کوئی حساب وعذاب نہیں،خداکی قسم !کاش !میں کسی راستے کے کَنارے پر کوئی دَرَخت ہوتا، وہاں سے کسی اُونٹ کا گزرہوتا، وہ مجھے منہ میں ڈالتا چباتا پھر نگل جاتا۔اے کاش!میں انسان نہ ہوتا۔
(مُصَنَّف ابن ابی شَیبۃج۸ ص ۱۴۴، دارالفکر بیروت)
ایک موقع پر فرمایا:''کاش !میں کسی مسلمان کے پہلو کا بال ہوتا۔ ''
(الزُّھد،للامام احمد بن حنبل ص ۱۳۸ رقم ۵۶۰)
(۲) کاش!میں پھل دار پَیڑ ہوتا
حضرتِ سیِّدُناابو ذَرغِفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک بار غَلَبہ خوف کے وَقت فرمانے لگے:''خدا کی قسم! اللہ عَزَّوَجَلَّ نے جس دن مجھے پیدا فرمایا تھا کاش! اُس دن وہ مجھے ایسا پَیڑ بنادیتا جس کو کاٹ دیا جاتا اور اس کے پھل کھالئے جاتے۔''
(مصنف ابنِ ابی شیبہ ج۸ص۱۸۳)
(۳) میں ان کی عاجِزی دیکھنا چاہتا تھا
جلیل القدر مُحدِّث حضرتِ سیِّدُنا سفیان ثوری علیہ رحمۃ اللہ القوی رَملہ تشریف