Brailvi Books

تکبر
45 - 98
تکبّر کی نُحُوست کی وجہ سے مرنے سے پہلے ہمارا اِیمان سَلب ہوجائے اور معاذ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمارا خاتمہ کُفر پر ہو ،اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو عِلم کے دفینے اورعبادتوں کے خزینے ہمارے کچھ کام نہ آئیں گے ۔  ؎
مسلماں ہے عطّارؔ  تیری عطا سے 

               ہو   اِیمان   پر   خاتِمہ  یا  الہٰی
 کافِر کو کافِرکہنا ضروری ہے
  دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ686 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ''کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب'' کےصَفْحَہ59 پرشیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت بانیئ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمدالیاس عطّار قادری دامت برکاتہم العالیہ لکھتے ہیں:کافِر کو کافِر کہنا نہ صرف جائز بلکہ بعض صورتوں میں فرض ہے ۔صدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی لکھتے ہیں: ایک یہ وَبا بھی پھیلی ہوئی ہے کہتے ہیں کہ ہم تو کافِر کو بھی کافِرنہ کہیں گے کہ ہمیں کیا معلوم کہ اس کا خاتِمہ کُفر پر ہو گا '' یہ بھی غَلَط ہے قرآنِ عظیم نے کافِرکو کافِر کہا اور کافِر کہنے کا حکم دیا۔ (چُنانچِہ ارشاد ہوتا ہے :)
قُلْ یٰۤاَیُّہَا الْکٰفِرُوۡنَ ۙ﴿۱﴾
ترجمہ کنزالایمان:تم فرماؤ اے کافرو!

اور اگر ایسا ہے تو مسلمان کو بھی مسلمان نہ کہو تمھیں کیا معلوم کہ اسلام پر مرے گا خاتمہ کا حال تو خدا جانے مگر شریعت نے کافر و مسلم میں امتیا ز رکھا ہے۔(پ۳۰الکافرون۱)
 (بہارِ شریعت ،جلد ۲،حصّہ ۹،ص۴۵۵)
Flag Counter