Brailvi Books

تکبر
44 - 98
عذروالاہے یعنی اِس کے پاس تو عِلم کے نہ ہونے کی وجہ سے جہل کا عذر ہے میں کونسا عذر پیش کروں گا ! اور اگر خود سے زیادہ علم والے کو دیکھے تو اس کو بھی خود سے بہتر سمجھے اور یہ جانے کہ اس کا علم زیادہ ہے لہذا تقویٰ اور علم کی وجہ سے عبادات بھی زیادہ ہوں گی اس لئے کہ اسے معلوم ہے کہ کس کس عبادت کا اجر و ثواب زیادہ ہے! کون کون سے اعمال کا درجہ بلند ہے!اس نے نیکیاں بھی اپنے علم کی وجہ سے زیادہ جمع کرلی ہوں گی اور علم کی فضیلت کی وجہ سے جو بخشش و عطاہو گی وہ اس کے نصیب میں ہوگی،اگر کسی کافر کو دیکھے تواگرچہ اسے حقیر جاننے میں شرعاً کوئی حرج نہیں مگر اپنے دل سے تَکَبُّر کا صفایا کرنے کے لئے اسے بھی بحیثیت انسان کے خود سے حقیر اور کم تر نہ جانے، کافر کو دیکھ کر اپنے اندر اس طرح عاجزی پیداکرے کہ اس وقت یہ کافر ہے اور میں مومن ، لیکن کیا معلوم کہ یہ توبہ کرلے اور آخر ی وقت میں مسلمان ہو جائے یوں اس کا خاتمہ ایمان پر ہو جائے اوریہ بخشش ونجات کا مستحق بن جائے جبکہ میں ساری عمر ایمان پر گزار کر ممکن ہے اپنی موت سے پہلے کوئی ایسا کام کر بیٹھوں کہ میرا ایمان جاتا رہے اور میرا خاتمہ کفر پر ہو !حدیث پاک میں ہے :
اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالْخَوَاتِیْمِ
یعنی اَعمال کا دارومدار خاتمے پر ہے۔''
 (صحیح البخاری الحدیث۶۶۰۷،ج۴،ص۲۷۴)
مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں: ''یعنی مرتے وقت جیسا کام ہوگا ویسا ہی انجام ہوگا لہٰذا چاہیے کہ بندہ ہر وقت ہی نیک کام کرے کہ شاید و ہی اس کا آخری وقت ہو۔''
 (مرآۃ المناجیح،ج۱،ص۹۵)
   میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو! اللہ عَزَّوَجَلَّ بے نیاز ہے اُس کی''خفیہ تدبیر'' کو کوئی نہیں جانتا،کسی کو بھی اپنے عِلم یا عبادت پر ناز نہیں کرنا چاہے۔ کہیں ایسانہ ہو کہ
Flag Counter