Brailvi Books

تکبر
43 - 98
ضروری ہے کہ تَفَاخُر (فخرجَتانے)کے طور پر یہ اظہار نہ ہو کہ تَفَاخُر حرام ہے بلکہ محض تحدیثِ نعمتِ الہٰی کے لیے یہ ظاہر ہوا اور یہ مقصد ہو کہ جب لوگوں کو ایسا معلوم ہوگا تو اِستفادہ کریں گے کوئی دین کی بات پوچھے گا اور کوئی پڑھے گا۔
 (بہار شریعت،حصہ ۱۶،ص۲۷۰)
    (۴)ایسی روایات پیشِ نظر رکھے جس میں علما کو عذاب دئیے جانے کا تذکرہ ہے اور خُود کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بے نیازی سے ڈرائے ،مثلاً :
سب سے زیادہ عذاب
   اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا :''قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب اُس عالِم کو ہو گا جس کے عِلم نے اُسے نفع نہ دیا ہو گا۔''
 (شعب الایمان،باب فی نشر العلم، الحدیث: ۱۷۷۸،ج۲،ص۲۸۵)
خود کو حقیر سمجھنے کا طریقہ
    (۵)زیورِ عِلم سے آراستہ اسلامی بھائی دوسروں کو حقیر اورخود کو افضل سمجھنے کے شیطانی وار سے بچنے کے لئے یہ مَدَنی سوچ اپنا لے کہ اگر اپنے سے کم عمر کو دیکھے تو اسے اپنے سے یہ خیال کرکے افضل سمجھے کہ اس کی عمر تھوڑی ہے، اس کے گناہ بھی مجھ سے کم ہوں گے، اس لئے مجھ سے بہتر ہے اور اگر اپنے سے کسی بڑے کو دیکھے تو اس کو بھی خود سے بہتر سمجھے اور یہ جانے کہ اس کی عمر مجھ سے زیادہ ہے، اس نے نیکیاں بھی مجھ سے زیادہ کی ہوں گی،اور اگر ہم عمر کو دیکھے تو اس کے بارے حُسنِ ظن رکھے کہ یہ اِطاعت، عبادت اور نیکی میں مجھ سے بہتر ہے،اگر اپنے سے کم علم یا جاہل کو دیکھے تو اس کو بھی اپنے سے بہتر سمجھے کہ یہ اپنی جہالت وکم علمی کی وجہ سے گناہ کرتاہے اور میں عِلم رکھنے کے باوُجُود گناہ میں گرفتارہوں اس لئے یہ جاہِل تومجھ سے زیادہ
Flag Counter