مقامِ غور ہے کہ جب اتنے بڑے مُفتی ، مُحدِّث ،مُفَسِّر اورفَقِیہ خُود کو ''عالِم '' نہیں سمجھتے تو ماوشُما کس شمار میں ہیں !
خُود کو عالِم کہنے والا جاہِل ہے !
حدیثِ پاک میں تو یہاں تک آیا کہ''مَنْ قَالَ اَنَا عَالِمٌ فَہُوَ جَاہِلٌ یعنی جس شخص نے یہ کہاکہ میں عالِم ہوں، توایسا شخص جاہِل ہے۔''
(المعجم الاوسط، الحدیث ۶۸۴۶،ج۵،ص۱۳۹)
شارِحین نے اِس حدیث مبارکہ میں اپنے آپ کو''عالِم'' کہنے والے کوجاہِل سے تعبیرکرنے کی وجہ یہ بیان کی کہ جو واقعی عالِم ہوتا ہے وہ اِس عِلم کے ذریعے اپنے نفس کی معرِفت رکھتا ہے اُسے اپنا نفس انتہائی حقیروعاجِزنظرآتاہے، اس لئے اپنے لئے ''عِلم کادعویٰ ''نہیں کرتا اوروہ یہ سمجھتا ہے کہ حقیقی عِلم تو اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی کے پاس ہے جیساکہ اِرشادباری تعالیٰ ہے :''
وَاللہُ یَعْلَمُ وَ اَنۡتُمْ لَا تَعْلَمُوۡنَ ﴿۲۱۶﴾٪
ترجمہ کنزالایمان :اور اللہ جانتا ہے اورتم نہیں جانتے۔'' (پ۲،البقرہ:۲۱۶) اور جو عالِم ہونے کا دعویٰ کرے تو گویا اُس نے ابھی عِلم کو سمجھا ہی نہیں ہے لہٰذا اُسے جاہِل کہا گیا ۔
(الحدیقۃ الندیۃ،ج۱،ص۵۶۷ملخصًا)
مَدَنی پھول: عالِم اگر اپنا ''عالِم'' ہونا لوگوں پر ظاہر کرے تو اس میں حرج نہیں مگر یہ