Brailvi Books

تکبر
41 - 98
ہوتاہے اوردرخت اُس کواپنی شاخوں کے ذریعے جذب کرلیتے ہیں۔اب اگر درخت کڑواہوتاہے توبارش کا پانی اُس کی کڑواہٹ میں اِضافہ کرتاہے اوراگروہ درخت میٹھاہوتاہے تواُس کی مٹھاس میں اِضافہ کرتاہے بس یونہی عِلم بذاتِ خود توفائدے کاباعث ہے مگرجب خواہشاتِ نفس میں گرفتارانسان اِس کوحاصل کرتاہے تویہ عِلم اُس کے تَکَبُّرمیں مبتلا ہونے کا سبب بن جاتا ہے اورجب شریفُ النَّفس انسان کویہ دولت عِلم حاصل ہوتی ہے تویہ اُس کی شرافت ،عبادت،خوف وخَشِیّت اور پرہیزگاری میں اِضافہ کرتاہے ۔
 (الحدیقۃ الندیۃ،ج۱،ص۵۵۷)
عالِم کا خود کو ''عالِم''سمجھنا
  (۳)خود کو ''عالِم'' بلکہ ''علامہ'' کہنے بلکہ دل میں سمجھنے والوں کیلئے بھی مقامِ غور ہے کہ اعلیٰ حضرت شاہ امام احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمن جنہیں 55سے زائد علُوم وفنون پر عبور حاصل تھا ، آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی علمی وجاہت،فقہی مہارت اور تحقیقی بصیرت کے جلوے دیکھنے ہوں تو فتاوٰی رضویہ دیکھ لیجئے جس کی 30جِلدیں (تخریج شدہ)ہیں۔ایک ہی مفتی کے قلم سے نکلا ہُوا یہ غالباً اُردو زَبان میں دنیا کا ضَخیم ترین مجموعہ فتاویٰ ہے جو کہ تقریباً بائیس ہزار(22000)صَفَحات، چھ ہزار آٹھ سو سینتا لیس (6847)سُوالات کے جوابات اور دو سو چھ (206)رسائل پر مُشتَمِل ہے۔ جبکہ ہزارہا مسائل ضِمناً زیرِ بَحث آ ئے ہیں۔ایسے عظیم ُالشَّان عالِمِ دین اپنے بارے میں عاجِزی کرتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ''فقیر تو ایک ناقص، قاصر،ادنیٰ طالب علم ہے ، کبھی خواب میں بھی اپنے لیے کوئی مرتبہ علم قائم نہ کیا اور بِحمدہٖ تعالیٰ بظاہر اَسباب یہی ایک وجہ ہے کہ رحمتِ الہٰی میری دستگیری فرماتی ہے،میں
Flag Counter