| تکبر |
ہیں مگر یہ ان کے ساتھ حسنِ سُلوک نہیں کرتا ،لوگ اس کی ملاقات کو آتے ہیں لیکن یہ خُود چل کر ان سے ملاقات کو نہیں جاتا ، لوگ اس کی بیمار پُرسی کرتے ہیں مگر یہ ان کی بیمار پُرسی نہیں کرتا ،کوئی اس کی خدمت میں کوتاہی کرے تو اسے بُرا جانتا ہے ، وہ خُود کو اللہ تعالیٰ کے ہاں دوسرے لوگوں سے افضل واعلیٰ سمجھتا ہے ، ان کے گناہوں کوبُرا جانتا اپنی خطائیں بھول جاتا ہے ۔الغرض ایسا شخص سرسے پاؤں تک آفتِ علم یعنی تَکَبُّر میں گرفتار ہوجاتا ہے ،چُنانچِہ مروی ہے کہ:
''اٰفَۃُ الْعِلْمِ الْخَیْلَاءُ
یعنی علم کی آفت تَکَبُّر ہے ۔ ''
(فیض القدیر ،تحت الحدیث :۹۶۵۴ج۶ص۴۷۸)
عِلم سے پیدا ہونے والے تکبرکے عِلاج
(۱)ایسے اِسلامی بھائیوں کو ''مُعَلِّمُ الْمَلَکُوت ''کے مَنصَب تک پہنچنے والے (یعنی شیطان)کا اَنجام یاد رکھنا چاہے جس نے اپنے آپ کو حضرت سیِّدُنا آدم صَفِیُّ اللہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام سے افضل قرار دیا تھا مگراُسے اِس تَکَبُّر کے نتیجے میں کیا ملا!ڈرنا چاہے کہ کہیں یہ تَکَبُّر ہمیں بھی عذابِ جہنَّم کا حقدار نہ بنادے ۔ ؎
گر تو ناراض ہوا میری ہلاکت ہوگی
ہائے میں نارِ جہنَّم میں جلوں گا یارب(۲)اِس روایت کو غور سے پڑھئے اور اپنا مُحَاسَبَہ کیجئے کہ آپ کہاں کھڑے ہیں!
اہلِ علم کے تکبُّر میں مبتلا ہونے کا سبب
حضرت سیِّدُناوہب بن مُنَبِّہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ اِرشادفرماتے ہیں:''عِلم کی مثال تو بارش کے اُس پانی کی طرح ہے جوآسمان سے صاف وشَفَّاف اورمیٹھانازل