| تکبر |
ہر مرض کے عِلاج کے لئے اُس کے اَسباب کا جاننا بہت ضروری ہے ، بنیادی طور پر دل میں تَکَبُّر اسی وقت پیداہوتا ہے جب آدمی خود کو بڑا سمجھے اور اپنے آپ کو وہی بڑا سمجھتا ہے جو اپنے اندر کسی کمال کی بُو پاتا ہے ،پھر وہ کمال یاتو دینی ہوتا ہے جیسے علم وعمل وغیرہ اور کبھی دُنیوی مثلاً مال ودولت اور طاقت ومنصب وغیرہ ، یوں تَکَبُّر کے کم از کم 8 اَسباب ہیں :(۱)عِلم (۲)عبادت (۳)مال ودولت (۴)حسب ونَسَب (۵)عہدہ ومَنصَب(۶)کامیابیاں(۷)حُسن وجمال(۸)طاقت وقوت۔
(احیاء علوم الدین،ج۳،ص۴۲۶ تا ۴۳۳ ملخصًا)
(۱)عِلم
عِلمِ دین سیکھنا سِکھانا بہت بڑی سعادت ہے اور اپنی ضرورت کے بقدر اس کا حاصل کرنا فرض بھی ہے مگربعض اوقات انسان کثرتِ عِلم کی وجہ سے بھی تَکَبُّر کی آفت میں مبتلاہوجاتا ہے اور کم عِلم اِسلامی بھائیوں کو حقیر جاننے لگتا ہے ۔ بات بات پر انہیں جھاڑنا ،وہ کوئی سوال پوچھ بیٹھیں توان کی کم علمی کا اِحساس دلا کر ذلیل کرنا ، انہیں ''جاہِل'' اور''گنوار'' جیسے بُرے القابات سے یاد کرنا اُس کی عادت بن جاتا ہے۔ ایسا شخص توقع رکھتا ہے کہ لوگ اُسے سلام کرنے میں پہل کریں اور اگر یہ کسی اَن پڑھ کو سلام میں پہل کر لے یا دوگھڑی اُس سے ملاقات کر لے یا اس کی دعوت قبول کر لے تواُس پراپنا احسان سمجھتا ہے ،عام طور پر لوگ اس کی خیرخواہی کرتے