| تکبر |
میرے سامنے زبان چلاتے ہو ، تمہاری یہ ہمت کہ مجھے جواب دیتے ہو '' وغیرہ وغیرہ۔ الغرض مختلف اَحوال،اَقوال اور اَفعال کے ذریعے تَکَبُّر کا اظہار ہوسکتا ہے ،پھر بعض متکبرین میں اِظہار کے تمام انداز پائے جاتے ہیں اور کچھ متکبرین (مُ۔تَ۔کَبْ۔بِرین)میں بعض ۔ لیکن یاد رہے کہ یہ تمام باتیں اُسی وقت تَکَبُّر کے زُمرے میں آئیں گی جبکہ دل میں تَکَبُّر موجود ہو محض ان چیزوں کو تَکَبُّر نہیں کہا جاسکتا ۔
(ماخوز از احیاء العلوم ،ج۳، ص۴۳۴)
تکبُّر کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بُرائیاں
تکبر ایسا مُہْلِک(مُہْ۔لِک)مرض ہے کہ اپنے ساتھ دیگر کئی برائیوں کو لاتا ہے اور کئی اچھائیوں سے آدمی کو محروم کردیتا ہے ۔چُنانچِہ حجۃ الاسلام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد بن محمدغزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی لکھتے ہیں :''متکبر شخص جوکچھ اپنے لئے پسند کرتا ہے اپنے مسلمان بھائی کے لئے پسند نہیں کرسکتا،ایساشخص عاجزی پر بھی قادر نہیں ہوتا جو تقوٰی وپرہیزگاری کی جڑ ہے ،کینہ بھی نہیں چھوڑ سکتا،اپنی عزت بچانے کے لئے جھوٹ بولتا ہے ،اس جھوٹی عزت کی وجہ سے غصہ نہیں چھوڑ سکتا،حسد سے نہیں بچ سکتا ،کسی کی خیرخواہی نہیں کرسکتا ،دوسروں کی نصیحت قبول کرنے سے محروم رہتا ہے ،لوگوں کی غیبت میں مبتلا ہوجاتا ہے الغرض متکبر آدمی اپنا بھرم رکھنے کے لئے ہربرائی کرنے پرمجبور اور ہر اچھے کام کو کرنے سے عاجز ہوجاتا ہے ۔''
(احیاء العلوم،ج۳،ص ۴۲۳ملخصًا)
تکبُّر سے جان چُھڑا لیجئے
میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو!اِس گناہ کی تعریف،تباہ کاریاں،بعض علامتیں جاننے اور مسلسل غوروفکر کے بعد اپنے اندر تَکَبُّر کی موجودگی کا انکشاف ہونے کی