(2)حضرتِ مولائے کائنات ، علیُّ المُرتَضٰی کَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں:جوکوئی چھینک آنے پر
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی کلِّ حَال
کہے تو وہ داڑھ اور کان کے درد میں کبھی مبتَلانہیں ہوگا۔
(مِرْقَاۃُ الْمَفَاتِیْح ج۸ ص۴۹۹تحت الحدیث ۴۷۳۹)
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن یا اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی کلِّ حَال
کہے ۔ (4) سننے والے پر واجب ہے کہ فو را ً
(یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھ پر رحم فرمائے)کہے ۔ اور اتنی آواز سے کہے کہ چھینکنے والاخود سن لے ۔
(5)جواب سن کر چھینکنے والاکہے:
'' یَغْفِرُاللہُ لَنَاوَلَکُمْ''
(یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ ہماری اور تمہاری مغفِرت فرمائے ) یایہ کہے :
'' یَھْدِیْکُمُ اللہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ ''
(یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں ہدایت دے اورتمہارا حال درست کرے)۔
(عالَمگیری ج ۵ ص ۳۲۶) (غیبت کی تباہ کاریاں ،ص۳۲۵)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
تکبُّر کا اظہارکبھی تو انسان کی حَرَکات وسَکَنات سے ہوتا ہے جیسے منہ پُھلانا،ناک چڑھانا،ماتھے پر بَل ڈالنا،گُھورنا، سرکوایک طرف جھکانا،ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھنا،ٹیک لگا کر کھانا،اکڑکر چلنا وغیرہ اور کبھی گفتگو سے مثلاً یہ کہنا:''کیچوے کی اولاد! تم