| تکبر |
محدِّث اعظم پاکستان حضرت علامہ مولانا محمدسردار احمد قادری علیہ رحمۃ اللہ القوی کی خدمت میں دو دیہاتی ایک مسئلہ پوچھنے کے لئے حاضر ہوئے۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس وقت چار پا ئی پر جلوہ گر تھے، دیہاتیوں نے آپ کے علمی مقام کا پاس کرتے ہوئے زمین پر بیٹھنا چاہا مگر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہنے عاجزی کرتے ہوئے اُن دیہاتیوں کو اِصرار کرکے نہ صرف چارپائی پر بیٹھایا بلکہ اپنی چارپائی کے سرہانے کی طرف بٹھایا۔حکم کی تعمیل کے لئے انہیں آپ کے برابر بیٹھنا پڑا اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ان کے مسئلہ کا جواب مرحمت فرمایا۔
(حیات محدّث اعظم،ص۱۹۳)
اللہ عَزَّوَجَلَّکی اِن پر رحمت ہو اور اِن کے صَدَقے ہماری مغفرت ہو
اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّدچھٹی علامت: مریضوں ،معذوروں اور غریبوں کو حقیر جانتے ہوئے ان کے پاس بیٹھنے سے اجتناب کرنا۔
(الحدیقۃ الندیۃ،ج۱،ص۵۸۵)
مُحَاسَبَہ:کہیں ہم بھی تو ایسے نہیں؟ سا تویں علامت: کسی کو حقیر جانتے ہوئے سلام میں پہل نہ کرنا بلکہ دوسرے اِسلامی بھائی سے توقُّع رکھنا کہ یہ مجھے سلام کرے۔
(احیاء علوم الدین،ج۳،ص۴۲۷ملخصًا)
مُحَاسَبَہ:کہیں ہم بھی تو ایسے نہیں؟ آٹھویں علامت: اپنے ماتحت یا کسی اور اِسلامی بھائی کو حقیر جان کراُس سے مُصَافَحہ کرنے کو ناپسند کرنا ،اگر ہاتھ مِلانا ہی پڑ جائے تو طبیعت پر گِراں(یعنی ناگوار) گزرنا ۔