خلیفہ اعلیٰ حضرت مولانا سیِّدایُّوب علی علیہ رحمۃاللہ القوی کا بیان ہے کہ ایک صاحِب جن کا نام مجھے یاد نہیں اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت ، مُجَدِّدِ دِین ومِلَّت، حضرتِ علَّامہ مولٰینا شاہ امام احمد رَضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن کی خدمت میں حاضر ہواکرتے تھے اور اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت بھی کبھی کبھی ان کے یہاں تشریف لے جایا کرتے تھے۔ایک مرتبہ حضور(اعلیٰ حضرت)ان کے یہاں تشریف فرما تھے کہ ان کے مَحَلے کا ایک بیچ ارہ غریب مسلمان ٹوٹی ہوئی پُرانی چارپائی پر جو صحن کے کَنارے پڑی تھی جھجکتے ہوئے بیٹھا ہی تھا کہ صاحِبِ خانہ نے نہایت کڑوے تَیوروں سے اُ س کی طرف دیکھنا شُروع کیا یہاں تک کہ وہ نَدامت سے سر جُھکائے اُٹھ کر چلا گیا۔اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کو صاحِبِ خانہ کی ا ِس مغرورانہ روِش پر سخت تکلیف پہنچی مگر کچھ فرمایا نہیں۔کچھ دنوں بعد وہ آپ کے یہاں آئے ۔اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت نے اپنی چارپائی پر جگہ دی،وہ بیٹھے ہی تھے کہ اتنے میں کریم بخش حجام حُضور(اعلیٰ حضرت)کا خط بنانے کے لئے آئے،وہ اِس فکر میں تھے کہ کہاں بیٹھوں؟اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت نے فرمایا:'' بھائی کریم بخش!کیوں کھڑے ہو؟مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔''اور ان صاحب کے برابر میں بیٹھنے کا اشارہ فرمایا،وہ بیٹھ گئے،پھر ان صاحِب کے غصہ کی یہ کیفیت تھی کہ جیسے سانپ پُھنکاریں مارتا ہے، وہ فورًا اٹھ کر چلے گئے،پھر کبھی نہ آئے۔خلافِ معمول جب عرصہ گزر گیا تو اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّتنے فرمایا :اب فُلاں صاحِب تشریف نہیں لاتے ہیں!پھرخود ہی فرمایا:میں بھی ایسے شخص سے ملنا نہیں چاہتا ۔