Brailvi Books

تکبر
29 - 98
ہے تو یہ ناجائز نہیں بلکہ مستحب ہے۔
 (بہارِ شریعت، حصہ ۱۶،ص۱۱۳)
اپنے سردار کے پاس اٹھ کر جاؤ
حضرتِ سیِّدُنا ابوسعید خدری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جب بنی قُرَیْظہ اپنے قَلْعے سے حضرت سیِّدُناسعد بن مُعاذ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے حکم پر اترے ،حضورِ انور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے حضرت سیِّدُناسعد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے پاس آدمی بھیجا اور وہ وہاں سے قریب میں تھے۔ جب مسجد کے قریب آگئے،آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے انصار سے فرمایا:''اپنے سردار کے پاس اُٹھ کر جاؤ۔''
 (صحیح البخاري، کتاب الجھاد، باب اذا نزل العدو ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث ۳۰۴۳،ج۲،ص۳۲۲)
صحا بہ کرام علیہم الرضوان کھڑے ہوکر تعظیم کیا کرتے
     حضرتِ سیِّدُنا ابوہُریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میٹھے میٹھے آقا مکّی مَدَنی مصطفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مسجِد میں بیٹھ کر ہم سے باتیں کرتے جب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کھڑے ہوتے توہم بھی کھڑے ہو جاتے اور اُتنی دیر کھڑے رہتے کہ حُضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو دیکھ لیتے کہ بعض ازواجِ مُطَہَّرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے مکان میں تشریف لے گئے۔
 (شعب الإیمان، باب في مقاربۃ۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث ۸۹۳۰، ج۶، ص۴۶۷)
تیسری علامت: کہیں آتے جاتے وقت یہ خواہِش رکھنا کہ میرا کوئی شاگِردیا مُریدیا عقیدت مند یا کوئی رفیق برابریاپیچھے پیچھے چلے تاکہ لوگ مجھے مُعزّز سمجھیں۔
                (الحدیقۃ الندیۃ،ج۱،ص۵۸۴)
مُحَاسَبَہ:کہیں ہم بھی تو ایسے نہیں؟
Flag Counter