| تکبر |
حضرتِ سیِّدُنا ابواُمامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ صاحبِ قراٰنِ مُبین،محبوبِ ربُّ الْعٰلَمِین، جنابِ صادِق و اٰمین عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم عصا پر ٹیک لگا کر باہَر تشریف لائے۔ ہم آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے لیے کھڑے ہوگئے۔ ارشاد فرمایا: ''اِس طرح نہ کھڑے ہوا کرو جیسے عَجَمی کھڑے ہوا کرتے ہیں کہ ان کے بعض، بعض کی تعظیم کرتے ہیں۔''
(سنن أبي داود، کتاب الادب، الحدیث ۵۲۳۰، ج۴،ص۴۵۸)
بیان کردہ حدیث کی تشریح
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ312 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ''بہارِ شریعت''حصّہ 16 صَفْحَہ 113پر صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں: یعنی عجمیوں کا کھڑے ہونے میں جو طریقہ ہے وہ قَبیح و مذموم(یعنی بُرا)ہے، اس طرح کھڑے ہونے کی مُمانَعت ہے، وہ یہ ہے کہ اُمَرا بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں اور کچھ لوگ بروجہ تعظیم ان کے قریب کھڑے رہتے ہیں۔ دوسری صورت عَدَمِ جواز کی وہ ہے کہ وہ خود پسند کرتا ہو کہ میرے لیے لوگ کھڑے ہوا کریں اور کوئی کھڑا نہ ہو تو بُرا مانے جیسا کہ ہندوستان میں اب بھی بَہُت جگہ رَواج ہے کہ امیروں، رئیسوں، زمینداروں کے لئے اُن کی رعایا کھڑی ہوتی ہے، نہ کھڑی ہو تو زَدو کَوب تک نوبت آتی ہے۔ ایسے ہی مُتَکَبِّرِین و مُتَجَبِّرِین(یعنی تکبر اور ظلم کرنے والوں)کے متعلِّق حدیث میں وعید آئی ہے اور اگر اُن کی طرف سے یہ نہ ہو بلکہ یہ کھڑا ہونے والا اس کو مستحقِ تعظیم سمجھ کر ثواب کے لیے کھڑا ہوتا ہے یا تواضُع کے طور پر کسی کے لئے کھڑ ا ہوتا