کی رحمت اور اِنعاماتِ جنّت سے محرومی اور جہنَّم کا رہائشی بننے جیسے بڑے بڑے نقصانات کا سامنا ہے !اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ چندلمحوں کی لذّت چاہے یاہمیشہ کے لئے جنت !میدانِ محشر میں عزّت چاہے یا ذلّت !یقیناً ہم خسارے(یعنی نقصان)میں نہیں رہنا چاہیں گے توہمیں چاہے کہ اپنے اندر اِس مرضِ تَکَبُّر کی موجودگی کا پتا چلائیں اور اِس کے عِلاج کے لئے کوشاں ہوجائیں ۔ہر باطِنی مرض کی کچھ نہ کچھ علامات ہوتی ہیں ، آئیے!سب سے پہلے ہم تَکَبُّر کی علامات کے بارے میں جانتے ہیں پھر سنجیدگی سے اپنا مُحَاسَبَہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔یاد رہے!تَکَبُّر کی معلومات حاصل کرنے کا مقصد اپنی اِصلاح ہو نہ کہ دیگر مسلمانوں کے عُیُوب جاننے کی جستجو،خبردار!اپنی ناقِص معلومات کی بنا پرکسی بھی مسلمان پر خواہ مخواہ مُتَکَبِّر ہونے کا حکم نہ لگائیے ، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃالرّحمٰن فرماتے ہیں:لاکھوں مسائل واحکام، نیّت کے فرق سے تبدیل ہوجاتے ہیں۔(فتاوٰ ی رضویہ ،ج۸،ص۹۸)
یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ اِن علامات کومحض ایک مرتبہ پڑھنا اور سرسری طور پر اپنا جائز ہ لے لینا ہی کافی نہیں کیونکہ نفس وشیطان کبھی نہیں چاہیں گے کہ ہم ان علامات کو اپنے اندر تلاش کرکے تَکَبُّر کا عِلاج کرنے میں کامیاب ہوجائیں ،لہٰذا ! علاماتِ تکبر کو بار بار پڑھ کرخوب اچھی طرح ذہن نشین کر لیجئے پھر اپنا مسلسل مُحَاسَبَہ جاری رکھئے تو کامیابی کی راہ ہموار ہوجائے گی ،