| تکبر |
وارِد،اور اگر بوجہ تکبر نہیں تو بحکمِ ظاہر احادیث مَردوں کو بھی جائز ہے۔مگر عُلَماء دَر صورتِ عدمِ تکبُّر (یعنی تکبر کے طور پر نہ ہونے کی صورت میں)حکمِ کراہت تَنزیہی دیتے ہیں ۔بِالْجُمْلَہ(یعنی خلاصہ یہ کہ) اِسْبَالْ اگر براہِ عُجب وتکبر ہے, حرام ورنہ مکروہ اور خلافِ اَولیٰ۔
(ملخصًا ازفتاوی رضویہ ،ج۲۲،ص۱۶۴،۱۶۷)
(۶)جنّت میں داخِل نہ ہوسکے گا
حضرتِ سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ تاجدارِ رسالت ، شَہَنْشاہِ نُبُوَّت ، مصطَفٰے جانِ رحمت، شمعِ بزمِ ہِدایت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : ''جس کے دل میں رائی کے دانے جتنا(یعنی تھوڑا سا)بھی تَکَبُّر ہو گا وہ جنّت میں داخل نہ ہوگا۔''
(صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب تحریم الکبروبیانہ،الحدیث:۱۴۷،ص۶۰)
حضرتِ علامہ مُلّا علی قاری علیہ رحمۃ اللہ الباری لکھتے ہیں :جنت میں داخل نہ ہونے سے مُراد یہ ہے کہ تَکَبُّر کے ساتھ کوئی جنت میں داخل نہ ہو گا بلکہ تَکَبُّر اور ہر بُری خصلت سے عذاب بھگتنے کے ذریعے یا اللہ تعالیٰ کے عَفْو و کرم سے پاک و صاف ہو کر جنّت میں داخِل ہو گا۔
(مرقاۃ المفاتیح،کتاب الآداب، باب الغضب والکبر،ج۸،ص۸۲۸،۸۲۹)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
اِس تَکَبُّر کا کیا حاصل !
میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو!ذرا سوچئے کہ اِس تَکَبُّر کا کیا حاصل!محض لذّتِ نفس، وہ بھی چند لمحوں کے لئے!جبکہ اِس کے نتیجے میں اللہ ورسول عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ناراضی،مخلوق کی بیزاری،میدانِ محشر میں ذلّت ورُسوائی ،رب عَزَّوَجَلَّ