Brailvi Books

تکبر
24 - 98
لیکن اگر وہ کسی بات پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم اٹھالے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس کی قسم ضَرور پوری فرمائے۔''
(المسندللامام احمد بن حنبل، الحدیث: ۲۳۵۱۷،ج۹،ص۱۲۰)
(۴)قیامت میں رُسوائی
 تَکَبُّر کرنے والوں کو قیامت کے دن ذلت ورُسوائی کا سامنا ہوگا ، چنانچِہ دو جہاں کے تاجْوَر،سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : ''قیامت کے دن متکبرین کو انسانی شکلوں میں چیونٹیوں کی مانند ا ٹھایا جائے گا، ہرجانب سے ان پر ذلّت طاری ہو گی، انہیں جہنم کے
''بُولَس''
 نامی قید خانے کی طرف ہانکا جائے گا اور بہت بڑی آگ انہیں اپنی لپیٹ میں لےکر ان پر غالب آ جائے گی، انہیں
''طِیْنَۃُ الْخَبَال
یعنی جہنمیوں کی پیپ ''پلائی جائے گی۔''
(جامع الترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، باب ماجاء فی شدۃ ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۲۵۰۰،ج۴،ص۲۲۱)
     (۵) ٹخنے سے نیچے پاجامہ لٹکانا
            رحمتِ الہٰی سے محروم ہونے والوں میں متکبر بھی شامل ہوگا ،جیسا کہ اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ،، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا: ''جو تَکَبُّر کی وجہ سے اپنا تہبندلٹکائے گا اللہ عَزَّوَجَلَّ قِیامت کے دن اُس پر نظرِ رحمت نہ فرمائے گا۔''
(صحیح البخاری،کتاب اللباس،باب من جرثوبہ، من الخیلاء، الحدیث: ۵۷۸۸،ج۴،ص۴۶)
مَدَنی پھول:     اعلی حضرت امام اہلسنّت شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں'': پائچوں کا کَعْبَیْن(یعنی دونوں ٹخنوں)سے نیچا ہونا جسے عربی میں''اِسْبَالْ'' کہتے ہیں اگر براہِ عُجب وتکبر(یعنی خود پسندی اور تکبر کی وجہ سے)ہے تو قَطْعا ممنوع وحرام ہے اور اُس پر وعیدِ شدید
Flag Counter