| تکبر |
کا چلن اختیار کرتا ہے اور یہی چلن اس کو دنیا میں بڑائی عطا کرتا ہے ورنہ اس دنیا میں جب بھی کسی انسان نے فِرعونیت ، قارونیت اورنَمرودیت والی راہ پکڑی ہے بسا اوقات اللہ تعالیٰ نے اسے دنیا ہی میں ایساذلیل وخوار کیا ہے کہ اُس کا نام مقامِ تعریف میں نہیں بطورِ مذمت لیا جاتا ہے ۔ لہٰذاعقل و فہم کا تقاضہ یہ ہے کہ اِس دنیا میں اونچی پرواز کے لئے انسان جیتے جی پیوندِ زمین ہوجائے اور عاجزی و اِنکساری کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالے پھر دیکھئے کہ اللہ ربُّ العزت اُس کو کس طرح عزت وعظمت سے نوازتاہے ا ور اُسے دنیا میں محبوبیت اور مقبولیت کا وہ اعلیٰ مقام عطا کرتا ہے جو اُس کے فضل و کرم کے بغیر مل جانا ممکن ہی نہیں ہے۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
عاشقانِ رسول کے میٹھے بول کی بَر کات
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ''فیضان سنت'' جلد 2 کے 499 صَفحات پر مشتمل باب ، ''غیبت کی تباہ کاریاں''صَفْحَہ 223 پر شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت بانیئ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمدالیاس عطّارؔ قادری دامت برکاتہم العالیہ لکھتے ہیں:شہر قُصُور(پنجاب ،پاکستان)کے ایک نوجوان اسلامی بھائی کی تحریر بالتَّصَرُّف پیش کرتا ہوں: ''میں اُن دنوں میٹرک کا طالبِ علم تھا، بُری صُحبت کے باعِث زندگی گناہوں میں بسر ہو رہی تھی، مزاج بے حد غُصیلا تھا اور بد تمیزی کی عادتِ بد اِس حد تک پَہنچ چکی تھی کہ والِدصاحِب کُجا داداجان اور دادی جان کے سامنے بھی قینچی کی طرح زَبان چلاتا ۔ ایک روزتبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کا ایک مَدَنی قافِلہ ہمارے مَحَلّے کی مسجِد میں آ پہنچا ، خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ میں عاشِقانِ رسول سے ملاقات کیلئے پَہنچ گیا۔ ایک اسلامی