(۲)اللہ ربُّ العزت کے رسولوں کے مقابلے میں
اِس کی صورت یہ ہے کہ تَکَبُّر،جہالت اوربغض وعداوت کی بنا پر رسول کی پیروی نہ کرنایعنی خود کو عزت والا اور بلند سمجھ کر یوں تَصَوُّر کرنا کہ عام لوگوں جیسے ایک انسان کا حکم کیسے مانا جائے ، جیسا کہ بعض کفّا رنے حضور نبی کریم ر ء وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلَّم کے بارے میں حَقا رت سے کہاتھا:
اَہٰذَا الَّذِیۡ بَعَثَ اللہُ رَسُوۡلًا ﴿۴۱﴾
ترجمہ کنزالایمان : کیا یہ ہیں جن کو اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ؟(پ۱۹، الفرقان:۴۱)
اور یہ بھی کہا تھا:
لَوْلَا نُزِّلَ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیۡنِ عَظِیۡمٍ ﴿۳۱﴾
ترجمہ کنزالایمان : کیوں نہ اُتارا گیا یہ قرآن ان دو شہروں کے کسی بڑے آدمی پر ؟(پ۲۵، الزخرف:۱ ۳)
(الحدیقۃ الندیۃ،ج۱،ص۵۵۰)
نبی کے مقابلے میں بھی تکبرکُفر ہے ۔''
(مراٰۃ المناجیح،ج۶،ص۶۵۵)
(۳)بندوں کے مقابلے میں
یعنی اللہ ورسول عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلَّم کے علاوہ مخلوق میں سے کسی پر تَکَبُّرکرنا ،وہ اِس طرح کہ اپنے آپ کو بہتر اور دوسرے کو حقیر جان کر اُس پربڑائی چاہنا اور مُساوات(یعنی باہم برابری)کو ناپسند کرنا، یہ صورت اگرچِہ پہلی دو صورَتوں سے کم تَر ہے مگر اِس کا گناہ بھی بہت بڑا ہے کیونکہ کبریائی اور عظمت بادشاہِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ