Brailvi Books

تکبر
17 - 98
 اورحضرتِ سیِّدُناہارون عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِمَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کوبھیجامگراُس نے ان دونوں کوجھٹلایا تو رب عَزَّوَجَلَّ نے اُسے اوراُس کی قوم کودریائے نِیل میں غَرَق کردیا۔
(الحدیقۃ الندیۃ،ج۱،ص۵۴۹)
    دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 853 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ''جہنم میں لے جانے والے اعمال'' صَفْحَہ132پر ہے:مفسرین کرام علیہم رحمۃ اللہ السلام فرماتے ہیں :'' اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرعون کو مرے ہوئے بیل کی طرح دریا کے کنارے پر پھینک دیا تا کہ وہ باقی ماندہ بنی اسرائیل اور دیگر لوگوں کے لئے عبرت کا نشان بن جائے اوران پر یہ بات واضح ہو جائے کہ جو شخص ظالم ہو اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی جناب میں تَکَبُّر کرتا ہو اُس کی پکڑ اس طرح ہوتی ہے کہ اسے ذلت واہانت کی پستی میں پھینک دیا جاتاہے ۔''
(الزواجر عن اقتراف الکبائر(عربی) ،ج۱،ص۷۱)
                  نَمرود کی مچھر کے ذریعے ہلاکت
    نَمرُودبھی تَکَبُّر کی اِسی قسم کا شکار ہوا، اِس نے خدائی کادعوی کیا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو نمرود کی طرف بھیجا تو اُس نے آپ علیہ السلام کو جھُٹلایا حتّٰی کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ پر تَکَبُّر کرتے ہوئے کہنے لگا:''میں آسمان کے رب کو قتل کردو ں گا (معاذاللہ عَزَّوَجَلَّ) اور اِس اِرادے سے آسمان کی طرف تیر بر سائے ،جب تیر خون آلُود ہ ہوکر واپس زمین پر آگرے تو اُس نے اپنی جہالت ،بغض وعداوت اور کُفرکی شامت کی وجہ سے گمان کیا کہ معاذاللہ عَزَّوَجَلَّ ''اُس نے آسمان کے رب کوقتل کردیا۔'' حتّٰی کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے نمرود کی طرف ایک مچھرکوبھیجاجو ناک کے ذریعے اُس کے دماغ میں گھس گیااور اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اُس
Flag Counter