Brailvi Books

تکبر
16 - 98
              تَکَبُّر کسے کہتے ہیں؟
    خُود کو افضل،دوسروں کو حقیر جاننے کا نام تَکَبُّر ہے ۔چنانچہ رسولِ اکرم نُورِ مجسّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا :
'' اَلْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ
یعنی تکبر حق کی مخالفت اور لوگوں کو حقیر جاننے کا نا م ہے۔''
(صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب تحریم الکبروبیانہ،الحدیث:۹۱،ص۶۱)
    اِمام راغب اِصفہانی علیہ رحمۃ اللہ الغنی لکھتے ہیں :
 ذٰلِکَ اَن یَّرَی الْاِنْسَانُ نَفْسَہ، اَکْبَرَ مِنْ غَیْرِہِ
یعنی تکبر یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو دوسروں سے افضل سمجھے۔
(المُفرَدات للرّاغب ص۶۹۷)
مدینہ: جس کے دل میں تَکَبُّر پایا جائے اُسے ''مُتَکَبِّر ''کہتے ہیں۔
'' مَکّہ''کے تین حُرُوف کی نسبت سے تَکَبُّر کی3 اقسام
(۱) اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مقابلے میں تَکَبُّر
تکبر کی یہ قسم کُفر ہے،۱؎  جیسے فِرعون کا تَکَبُّر کہ اُس نے کہا تھا :
 اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی ﴿۫ۖ۲۴﴾فَاَخَذَہُ اللہُ نَکَالَ الْاٰخِرَۃِ وَ الْاُوۡلٰی ﴿ؕ۲۵﴾
ترجمہ کنزالایمان :میں تمہارا سب سے اونچا رب ہوں تو اللہ نے اُسے دنیا و آخرت دونوں کے عذاب میں پکڑا۔(پ۳۰،النٰزعٰت:۲۴)
فرعون ڈوب مرا
    فرعون کی ہدایت کے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللہ
__________________

۱؎ : مرقاۃ المفاتيح،کتاب الاداب،باب الغضب و الکبرج۸،ص۸۲۸
Flag Counter