Brailvi Books

تکبر
14 - 98
 اِس جہانِ فانی(یعنی دُنیا)میں کی گئی نیکیاں جہانِ آخرت کی آباد کاری جبکہ گناہ بربادی کا سبب ہیں اورنیکیوں اور گناہوں کی پہچان کے لئے عِلمِ دین کا ہونا بہت ضَروری ہے ۔ جہنم میں لے جانے والے گناہوں میں سے ایک تَکَبُّر بھی ہے جس کا عِلم سیکھنا فرض ہے چنانچہ اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت ،مجدّدِ دین وملّت ، پروانہ شمع رِسالت مولیٰنا شاہ امام اَحمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فتاویٰ رضویہ جلد 23 صفحہ 624 پر لکھتے ہیں: ''مُحَرَّمَاتِ باطِنِیَّہ(یعنی باطنی ممنوعات مَثَلاً)تَکَبُّر و رِیا وعُجب وحَسَد وغیرہا اور اُن کے مُعَالَجَات(یعنی عِلاج)کہ ان کا عِلم (یعنی جاننا)بھی ہر مسلمان پر اہم فرائض سے ہے ۔''
(فتاوٰی رضویہ مخرجہ،ج۲۳،ص۶۲۴)
    اس لئے ہر اِسلامی بھائی اوراِسلامی بہن کو چاہیئے کہ پہلے تَکَبُّر کی تعریف، تباہ کاریاں،اَقسام،اَسباب،علامات اور عِلاج وغیرہ کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کر کے دیانتداری کے ساتھ اپنا مُحَاسَبَہ کرے پھر اگر اِس باطِنی گناہ میں گرفتار ہونے کا اِحساس ہو توہاتھوں ہاتھ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں توبہ کرے اور عِلاج کے لئے بھرپور کوششیں شروع کر دے ۔
تکبُّرسے بچنے کی فضیلت
    مَخْزنِ جُودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:''جوشخص تکبر، خِیانت اوردَین(یعنی قرض وغیرہ)سے بَری ہوکر مرے گا وہ جنّت میں داخل ہوگا۔''
(جامع الترمذی،کتاب السیر،باب ماجاء فی الغلول،الحدیث۱۵۷۸،ج۳،ص۲۰۸)
Flag Counter