| تکبر |
سے محروم ہوکر جَہَنَّمی قرار پایا ۔ اِبلیس کایہ اَنجام دیکھ کر جب حضرتِ سیِّدُنا جبرئیل ومیکائیل علیہما السلام جیسے مقرّب ومعصوم فرشتے خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ سے اَشک بار ہوجائیں اور بارگاہِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ میں عافیت وسلامتی کی مُناجات (یعنی دُعائیں)کرنا شروع کر دیں تو ہم جیسے عِصیاں شِعاروں (یعنی گنہگاروں)کو تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے بدَرَجہ اَولیٰ ڈرنا چاہے ! ؎
ترے خوف سے تیرے ڈر سے ہمیشہ
میں تھر تھر رہوں کانپتا یا الہٰیصَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
تَکَبُّر کا عِلْم سیکھنا فَرْض ہے
میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو! اِس جدید سائنسی دور میں میڈیا (ذرائِعِ اِبلاغ)کی وُسعتوں نے ہر دوسرے شخص کو معلومات کا حریص بنا دیا ہے ، آج ہم اپنے اِرد گرد، اَڑوس پڑوس،مَحَلّے اور گاؤں،شہر اور ملک،خِطّے بلکہ ساری دنیاکی معلومات حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں کہ فُلاں ملک میں الیکشن ہوئے تو کس سیاسی پارٹی کو اکثریت حاصل ہوئی ! فُلاں میچ کونسی ٹیم جیتی ! فُلاں جگہ زلزلہ یا طوفان آیا تو کتنے لوگ ہلاک ہوئے ! فُلاں ملک کا صدر ،یا فُلاں صُوبے کاگورنر کون ہے !وغیرہ وغیرہ مگر افسوس اِس کے مقابلے میں ہماری دینی معلومات عُمُوماً سطحی نوعیَّت کی ہوتی ہیں پھر اُن میں سے دُرُست کتنی ہوتی ہیں ؟ کوئی صاحبِ عِلم ہمارا امتحان لے تو پتا چلے ۔ یادرکھئے ! دُنیوی معلومات کی کثرت پر ہمیں آخرت میں کوئی جزاملے گی نہ کم ہونے پر کوئی سزا!البتّہ بقدرِ ضرورت دینی معلومات نہ ہونا نقصانِ آخرت کا باعث ہے کیونکہ